تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 131 of 736

تحدیث نعمت — Page 131

سپرد کرتے رہے میں نے اسے دلچسپ پایا اور میں اسے تو جہ سے کرتا رہا۔علاوہ وکالت کے کام کے شہر سیالکوٹ میں اور ضلع کے مختلف حصوں میں سلسلہ احمدیہ کی فعال اور مخلص جماعتیں تھیں۔شہر کی جماعت کی سرگرمیوں میں میں شوق سے حصہ لیتا تھا۔سیالکوٹ کی جماعت میں محاسب کی خدمت میرے سپرد تھی جسے میں بڑے شوق سے ادا کرتا رہا۔جماعت کے بزرگوں کی صحبت میرے لئے مشعل راہ کا کام دیتی تھی اور موجب سعادت تھی۔مجھے کوئی ایسی عادت نہیں تھی کوئی ایسا شوق نہیں تھا کوئی ایسی مرغوب دلچسپی نہیں تھی جسے میں سیالکوٹ میں پورا نہ کر سکتا۔والدہ صاحبہ کی محبت اور شفقت ایک انمول نعمت تھی۔جس کی قدر و منزلت میرے انگلستان کے سہ سالہ قیام نے دوبال کریں کے ابتدائی عدالتوں کی پر کمیٹی کے ساتھ مجھے دلی رغبت پیدانہ ہوسکی۔چیف کورٹ کی پر کائی کا نہ مجھے کوئی انلاندہ تھانہ تجربہ۔لاہور میں وکالت کا کام شروع کرنے کیلئے مجھے نہ ضروری معلومات حاصل تھیں نہ ذرائع میسر تھے۔میں نے معلومات حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔میں سیالکوٹ کو چھوڑ کر کسی نئے ماحول میں منتقل ہونے کے خیال سے پریشان بھی ہوتا تھا۔دھرم سالہ کا سفر اس کی گرمیوں چودھری حاکم دین صاحب اور ڈاکٹر لال دین صاب کے والد جو بڑے مخلص، متقی اور بڑے متواضع بزرگ تھے دھرم سالہ میں گو ر کھا رجمنٹ میں ٹیلر ماسٹر تھے۔ان کے دونوں صاحبزادگان گرمیوں میں ان کے پاس گئے ہوئے تھے۔ڈاکٹر لال دین صاحب نے مجھے بھی ستمبر کی تعطیلات میں دھرم سالہ آنے کی دعوت دی۔میں نے والد صاحب سے اجازت لیکر دعوت منظور کرلی اور اگست کے آخر میں دھرم سالہ کیلئے روانہ ہوا۔لاہور سے پٹھانکوٹ کی گاڑی۔رات کے 4 بجے روانہ ہوئی۔سیکنڈ کلاس کے ایک بڑے خانے میں ہم دو مسافر تھے۔دوسرے صاحب ایک نبیا معمر بزرگ تھے جو رات کے وقت بھی رنگین چشمہ پہنے ہوئے تھے۔ان کے ٹرنک پر ان کا نام اور عہدہ یوں لکھا ہوا تھا، گیر سیل آرک ڈیکن احسان الحق۔میں نے سمجھ لیا کہ آپ کلیسا کے بزرگ عہدے دار ہیں۔وہ مجھ سے پہلے کمرے میں تشریف فرما تھے اور اپنے بستر پر آرام سے لیٹے ہوئے تھے۔میں پہل کی روانگی سے تقریباً بیس منٹ پہلے پہنچا تھا۔اتنے تھوڑے سے وقفے میں سوڈا برف والا دور بار لیونڈ اور برف لیکر آیا اور آرک ڈیکن صاحب کو پلا گیا۔معلوم ہوا کہ آرک ڈیکین صابر نے اسے ہدایت دے کر بھی ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد انہیں لیمونیڈ اور برف مہیا کرتا رہے۔جب مغل پورہ اسٹیشن پر گاڑی کھڑی ہوئی تو وہ برف لیمونیڈ لئے حاضر ہو گیا۔اٹاری، امرتیہ ، ٹیالہ ، گور اسپور ، دنیا نگمہ کے