تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 127 of 736

تحدیث نعمت — Page 127

سے واجب لاحترام شخصیت تھے کھری میں والد صاحب کا اور ان کا دفتر بھی ایک ہی کمرے میں تھا کچہری کے اوقات میں میرا فراغت کا بیشتر حصہ ان کی صحبت میں گذرتا تھا۔جب وہ اس مقدمہ میں ہا علیہ کی طرف سے وکیل مقر ہوئے تومجھ سے کہا تم نے یہ دعوی محض مدعا علیہ کو دق کرنے کیلئے کیاہے یا سنجیدگی سے کیا ہے ؟ میں نے کہا بہت سنجیدگی سے کیا ہے۔دن کرنا تو آپکے موکل نے شعار بنایا ہوا ہے۔ہم تو سکی شرارت کو یہ رکھنا چاہتے ہیں۔کہنے لگے ایساد عولی تو قابل سماعت کی نہیں کئی استغاثے ہری و نہ مخارج ہوتے ہیں اگر ہر متعیت پر ہر جانے کا دعوی ہونے لگے تو ایک مذاق بن بھائے۔میں نے کہانہ بد نیتی اور دشمنی کی دستبر سے جھوٹا استغاثہ کیا جائے اور وہ مخارج ہو سجائے تو مستعاث علیہ ضرور ہر جانے کا حقدار ہوتا ہے۔یہ علیہ بات ہے کہ یہاں الیسا د عمومی کرنے کا رواج نہیں اور الیسا د عو ملی آپ کو اچنبہ معلوم ہوتا ہے۔لیکن ایسے دعوئی میں کامیابی تھوٹے استغاثوں کی روک کا موجب ہوسکتی ہے۔فرمایا اچھا دیکھیں گے۔ہجواب ٹوٹی میں علاوہ واقعاتی عذرات کے یہ عذر بھی کیا گیا کہ السیاد عومی قانو نا قابل پذیرائی نہیں۔یہ مقدمہ بھی دیوان ستیا رام صاحب کے سپرد ہوا۔اور آخر میں مدعی کے حق میں ڈگری ہوگئی۔میں نے عمدا نزیادہ ہر سجا نہ طلب نہیں کیا تھا۔غرض تو مدعا علیہ کی تادیب تھی تاوہ شرارت میں بڑھتا نہ بجائے مستری جھنڈا صاحب کو اندیشہ تھا کہ وہ ایک استغاثہ تھا رج ہونے کے بعد ایک اور جھوٹا استغاثہ دائر کر دے گا۔ہمارے دعوٹی کا اصل مقصد یہ تھا کہ مدعا علیہ کو یہ احساس ہو جائے کہ ایسے اقدامات کی کچھ قانونی پاداش بھی ہوسکتی ہے۔دیوان صاحب نے ہماری مطلوبہ رقم ہرجانہ کی ایک شق میں تھوڑی سی تخفیف کردی اور بقیہ حملہ مطلوبہ ریتم کی ڈگری دیدی۔مدعا علیہ نے اپیل دائر کی جس کی سماعت مسٹر بیاہ کرنے کی اور اپیل خارج کر دی جیب مدعا علیہ کو تاوان اور دونوں عدالتوں کے فخریہ کی رقم ادا کر نی پڑی اور بہادری کی نظروں میں خفت بھی ہوئی تو اس نے مستری صاحب کو دق کرنا چھوڑ دیا۔اس طرح ایک مرنجان مریخ شریف ان ن مزید پریشانی سے بچ گیا۔موضع آلو مہار ضلع سیالکوٹ کے ایک بزرگ نے جو سادات میں سے تھے اور جن کی اولاد نرینہ نہیں تھی رواج کے مطابق اپنے نواسے کو اپنا نبی بنایا اور اسے اپنا وارث قرار دیا ان کے قریبی یکجری کوئی نہیں تھے۔ان کی وفات پر ان کے دور کے عدلیوں نے دعوی کیا کہ متوفی رواج کے پابند نہیں تھے۔شمع محمدی کے پابند تھے اور شرع محمدی میں تینیت جائز نہیں۔اسلئے وہ شروع محمدی کے مطابق ان کی وراثت میں اپنا حصہ پانے کے مستحق ہیں۔ابتدائی عدالت میں مدعیان کی طرف سے نچودھری محمد امین صاحب وکیل تھے اور مدعا علیہ کی طرف سے والد صاحب۔اس عدالت