تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 103 of 736

تحدیث نعمت — Page 103

I a poster فونڈیشن ان ہی کی فیاضی کے مرہون ہیں۔ہیگ کا میں پلیس جب تیارہ ہو گیا تو کئی حکومتوں نے اپنی طرف سے اس کی زیبائش کیلئے تحائف پیش کئے۔جرمن کے قیصر ولیم ثانی نے محل کے گردا گرد آہنی جنگلا اور محل کے آہنی پھاٹک ارسال کئے۔جب پہلی عالمی جنگ شروع ہو گئی تو کہا جانے لگا کہ قیصر ولیم نے PEACE PALACE تیار ہونے پر کہا۔یہ لو اب اس کے گردہ پہ آہنی جنگل اور منی پھانک لگا دو کیونکہ میں ا جنگ کی تیاری کر رہا ہوں۔میں جب پیس سپاس دیکھنے گیا تو اس وقت میرے دہم میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی ذرہ نواندی سے چالیس سال بعد میں عالمی عدالت کا حج منتخب ہو کہ اس عدالت کے اجلاس میں شامل ہوں گا۔اور تم ہم سال بعد اس عدالت کا نائب صدر اور ۵۶ سال بعد اس کا صدر منتخب ہو جاؤنگا نہ ہی اس وقت یہ تصورہ میں آسکتا تھا کہ معین اپنی ایام میں جس عظیم مرتبت شخصیت کو اللہ تعالیٰ نے سلسلہ احمدیہ کی امامت اور مسیح محمدی کی خلافت کے مقام پر فائز کیا۔اس کی مساعی حسنہ کے نتیجے میں اور اس کی غلامی کی وجہ سے مجھے ہیگ میں مسجد کی بنیاد رکھنے اورمسجد کی تعمیر کی تکمیل پر اس کے افتتاح کی سعادت بفضل اللہ نصیب ہو گی۔فالحمد للہ علی ذالک۔اس وقت تو یہ بھی دین میں نہیں آتا تھا کہ بیرسٹری کی سند حاصل کرنے کے بعد جب وطن واپسی ہو گی تو کبھی یورپ آنے کا اتفاق بھی ہو گا یا نہیں۔حضرت مرزا بشیر الدین محمد احمد لندن واپس آیا تو تین ہفتوں کی ڈاک جمع تھی۔علاوہ خلیفہ المسیح ثانی کی بیعت بذریعہ خط خطوط قادیان سے بہت سے اخبار ، اعلان اور پمفلٹ حضرت خلیفۃ المسیح اول کے وصال اور جماعت میں اختلاف کے متعلق آئے ہوئے تھے۔جبس صبح میں لنڈن پہنچا اسی دن سہ پہر کو ڈاک ہندوستان روانہ ہونیوالی تھی۔ڈاک نکلنے کے وقفت سے پہلے تمام اعلانات در سائل کے تفصیلی مطالعہ کا تو رفت نہ تھا۔لیکن ان سے اتنا معلوم ہو گیا کہ بنیادی اختلاف اس بات پر ہے کہ جماعت کا روحانی پیشوا کوئی فرد ہو یا بغیر کسی روحانی پیشوا کے جماعتی امور کی سرانجام دہی صدر کمین کے سپرد ہو اور انجمن کی قیادت جماعت کیلئے کافی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کی نوعیت کے متعلق بھی کچھ اختلاف پیدا ہوا تھا۔لیکن اصل اختلات ایک واجب الاطاعت امام کی ضرورت کے متعلق تھا۔مجھے قادیان سے رخصت ہوئے اور وطن سے دور رہتے اڑھائی سال ہو چکے تھے۔اس عرصے میں جو اندرونی اختلافات پیدا ہوئے ان کا مجھے علم نہیں تھا۔نہ مجھے یہ معلوم تھا کہ جماعت کی سرکردہ شخصیتوں میں سے کون کسی خیال کا حامی ہے