تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 76 of 736

تحدیث نعمت — Page 76

14 عماریت ہے۔اب تو گرجے کی حجیت تک جانے کیلئے بجلی کا لفٹ لگا دیا گیا ہے۔لیکن ساء میں جب تو چھت میں پہلی بار گیا تو او پر جانے کا راستہ سیڑھیوں کے ذریعے ہی تھا۔پھر چھت سے اوپر بھی کچھ بلندی تک سیڑھیاں جاتی تھیں۔میں جہاں تک سیڑھیاں جاتی تھیں پڑھتا گیا میرا اندازہ ہے کہ وہ سیڑھیاں تھیں۔واللہ اعلم بالصواب۔اس گرجے کے پہلو میں ایک بہت بلند خوشنما آرکیڈ ہے۔جس کے وسطی حصے میں ایک عمدہ مطعم اور کیفے ہے اور دونوں طرف بہت سجی ہو ئی دو کا نہیں ہیں۔میلان کے سینٹ میریا کے گرجے کی ایک دیوانہ پر مشہور مصور گیوناہ ڈوڈا دیجی کا شہرہ آفاق شاہکار عشائے ربانی نقش کیا ہوا ہے۔کہا جاتا ہے کہ عیو نالہ ڈو نے کئی سالوں میں اسے مکمل کیا۔جب بوش آتا کئی کئی گھنٹے اس پر برا بر محنت کرتے چلے جاتے۔جب یہ حالت نہ درستی مفتوں بلکہ مہینوں توجہ نہ کرتے۔جب تصویر مکمل ہوگئی تو معلوم ہوا کہ دیوار کے مسالے میں نقص کی دیتے کہ یادہ عرصہ قائم مندرہ سکے گی۔لیکن تھوڑی بہت کوشش کے ساتھ اب تک قائم چلی جا رہی ہے۔کہا جاتا ہے کہ جب یہ تصویر نقش کی گئی ان دنوں یہ گر یجا ایک کا نونٹ کا حصہ تھا اور یہ کمرہ کھانے کا دالان تھا۔بعد میں ایک دفعہ میں میلان کا قبرستان بھی دیکھنے گیا تھا۔میلان کے قبرستان میں میں نے ایک نئی چیز دیکھی وہ ایک بالکل جدید طرز کا کہ بیاوریم (مردوں کے جلانے کی جگہ ہے ، وہاں مرنے والے یا اسن کے ورثاء کی خواہش کے مطابق جلانے کیلئے آگ ، بجلی یا گیس تینوں میسر ہیں۔مجھے تعجب ہوا کہ موت میں بھی اسقدر تکلف اور تنوع۔لگانو LUGANO | میلان سے ہم لگانو گئے۔یہ کوہ الپس کے جنوب کی جانب سوئٹزر لینڈ کا ایک شہر ہے جو اسی نام کی جھیل کے کنارے واقعہ ہے۔ہمارا قیام ہوٹل وکٹوریہ اولاک میں ہوا ہو اپنے کے مطابق لب آب واقعہ ہے۔لگا تو اپنے مقام وقوع کے لحاظ سے ایک نہایت خوشگوار اور یہ فضا ہے۔سوئٹزر لینڈ کا حصہ ہونے کی وجہ سے سیاسی لحاظ سے پرامن ہے۔اٹلی کی حد یہ ہونے کی وجہ سے طعام اور کلام اور تمدن میں اطالوی رنگ رکھتا ہے۔گلی کوچے بہت صاف ہیں۔شہر کی آبادی پیاری اپنے نیچ کی بدولت اور جھیل کا کنارہ میسر مونیکی وجہ سے دلفریب نظر آتی ہے۔جھیل کے گرد پہاڑوں کا حلقہ ہے اور بہت سے مقامات سیر کے ہیں۔پہاڑ کا عکس تھیل کے پانیوں کے اندر ایک دلکشی پیدا کر دنیا ہے۔مگانو کے شمال کی طرف بھاتے ہوئے ریل سینیٹ کو تھارڈ نام کی سرنگ سے گزرتی ہے جو یورپ میں ریل کی ہے لمبی سرنگ ہے سرنگ پارہ کرنے میں قریباً آدھ گھنٹہ صرف ہوتا ہے۔ان دنوں ریل کے انجنوں میں کوئلہ جلنا تھا۔ساری سرنگ دھوئیں سے بھر جاتی تھی۔اگر کہیں ریل کی کوئی کھڑکی کھلی رہ جاتی تویل