تحدیث نعمت — Page 66
۶۶ کا اظہارہ کیا گیا تھا۔یہاں کچھ ستالینے کے بعد ہم پھر روانہ ہو گئے۔گھنٹہ ڈیڑھ کی مزید پڑھائی کے بعد ہم ایک نہایت خوشنما وادی میں پہنچے جو ایک میدان کی مانند کشادہ اور ہموار تھی۔انش کی وادی کے وسط میں ایک قصبہ فرامنوس تھا جہاں ہم چائے کیلئے ٹھہرے۔اور گھنٹہ بھر کے مزید سفر کے بعد ہم وادی کے دوسرے سرے پہرہ تو کسی قدر بلندی پر تھا شمال سیم پہنچے اور اسی نام کے ہوٹل میں اتر پڑے۔اسوقت یہ ہوٹل بھی لکڑی کا بنا ہوا تھا۔سچند سال ہوئے میں نے اخبار میں ہوئی کی عمارت کے مل جانے کی خبر ٹی بھی۔اب اس کی نئی عمارت غالباً پتھر کی ہے۔پھر بھی بہت سا حصہ لکڑی کا ضرور ہوگا۔کیونکہ ناروے کے مضافات میں اثر عمان میں ابھی تک لکڑی کی ہیں۔اس ہوٹل کے چاروں طرف نظارہ نہایت پر فضا تھا۔ہم کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد بہت دیہہ تک ارد گرد کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے رہے اور میرے دل سے صانع قدرت کی تبیع اور حمد بند ہوتی رہی سبحان الله وبحمل لا سبحان الله العظيم - اگلی صبح ہم ناشتے کے بعد گڈو انجن جانے کیلئے روانہ ہو گئے سڑک اتنی ڈھلوان تھی کہ جلد ہی ہم گاڑیوں سے اتر گئے اور پیدل چلنا پسند کیا۔ڈھلوان کے ختم ہونے پر گاڑیوں میں میٹھے گئے اور گڈو انجن پہنچ کر پھراپنے جہانہ پر سوار ہو گئے۔اب ہم سوگن فورڈ میں سے جارہے تھے۔اس فورڈ کے نظارے بار ڈنگر فورڈ کے نظاروں سے مختلف تھے۔ارد گرد کے پہاڑ زیادہ بلند تھے تھوڑے " تھوڑے فاصلے پر بلندی سے گرتی ہوئی آبشاریں سامنے آتیں اور غائب ہو جاتی تھیں۔شام کے کھانے سے پہلے تم قبل پولین پہنچ گئے۔ہوٹل کے سامنے کچھ فاصلے پر وار میں جرمنی کے قیصر وسیم ثانی کا YACHT 7 لنگر ڈالے تھا۔قیصر خود اس میں فروکش تھے۔دور ہے دن سہ پہر کو ہم تینوں سیر سے ہوٹل کی طرف واپس آرہے تھے کہ سامنے سے بری در دریوں میں پانچ چھ افراد آتے دکھائی دیئے تین آگے تھے اور دو یا تین پیچھے تھے۔راستہ تنگ تھا اور صرف تین آدمی ایک قطار میں سہولت سے پھل سکتے تھے۔اگلی قطار کے وسط میں جو صاحب تھے وہ اپنے دونوں ساتھیوں سے نصف قدم آگے آگے تھے۔قریب پہنچنے پر ہم نے پہچان لیا کہ قیصر ولیم ہیں۔جب ہم بالکل قریب آگئے تو ان کے ساتھیوں میں سے ایک جو قیصر کی بائیں طرف پھل رہے تھے مجھے ہٹ گئے۔ہم ایک دوسرے کے آگے پیچھے ہو گئے اور اس طرح سہولت سے دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کے پاس سے گزر گیئیں۔جرمن پارٹی کی آوازوں سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کی آپس کی گفتگو بے تکلفانہ تھی۔اس ہوٹل کے باغیچے میں بڑے خوبصورت سفید گلا کے پھول کھلے ہوئے تھے۔میں نے اتنے بڑے گلاب کے پھول پہلے نہیں دیکھے تھے۔ان میں