تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 56 of 736

تحدیث نعمت — Page 56

سمتھ کے قریب کے قریب کے شہروں اور علاقے کے لوگوں کی تھی ہو سینکڑوں کی تعداد میں تھے ٹائی ٹینک نے لنگر اٹھایا اور سو تھیمپٹن کی بندہ گاہ میں جتنے بہاز اس وقت لنگر ڈالے تھے رہنے سلامی کے بگل بجائے۔اور نعروں اور شادیانوں کے فلک شگاف شور میں یہ بد قسمت جہانہ اپنے پہلے اور آخری سفر پر روانہ ہوا۔اس شام اور دوسری صبح کے اختبار اس کی روانگی کی خبروں اور تصویروں سے پر تھے صبح کی اخباروں میں اس کی رفتار اور مختلف مقامات سے گذرنے کی خبرس تھیں۔تین دن تک پر اخبارہ میں اس عروس البحر کے سمندر کی لہروں پر خرام نازہ کی خبریں متواتر چھپتی رہیں۔اور دنیا اسکی ہر حرکت سے مطلع ہوتی رہی۔نصف سے زیادہ مسفرطے ہو چکا تھا اور ٹائی ٹینک ہر ساعت امریکہ کے ساحل کے قریب ہوتا جا رہا تھا۔موسم بہارہ تھا۔اس موسم میں شمالی برفانی سمندروں سے برف کے پہاڑ کے پہاڑ گرم پانیوں کی طرف بہتے آتے ہیں۔اس لئے یورپ سے شمالی امریکہ جانے والے جہاز بجاے سیدھے کنیڈا یا نیو یارک کا رخ کرنے کے جنوب کی طرف حلقہ ڈال کر اپنی مقصو بندر گاہ کی طرف بڑھتے ہیں۔بعد میں جو تحقیقاتی کمیشن بٹھایا گیا وہ اس امر کے متعلق کسی بچینہ فیصلے پر نہ پنچ سکا کہ ٹائی ٹینک نے جنوبی حلقے کا رستہ کیوں نہ لیا۔اور کیوں نسبتاً سیدھی سمت میں نیو یارک کی طرف بڑھتا گیا۔غرض تو واضح تھی کہ سفر کو لمبانہ کیا جائے اور ٹائی ٹینک تیز رفتاری کا سہرا جیت ہے۔لیکن یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ ماشالی رستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کپتان سمتھ نے اپنی زمہ داری پر کیا تھا ا سٹرابیری کی ہدایت پر کپتان سمتھ نے تو ٹائی ٹینک کی گود میں ہی سمندر میں دفن ہونا پسند کیا۔اسلئے وہ تو کمیشن کے رو برو آئے ہیں۔مسٹرا بیری کو سمندر کی لہروں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور وہ شہادت میں پیش ہوئے۔اتناتو انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کی خواہش تھی کہ ٹائی ٹینک تیز رفتاری کا سہرا جیت سے اور انہوں نے کپتان سمتھ سے ہاں خواہش کا ذکر بھی کیا تھا۔لیکن شمالی استنے کے اختیار کرنے کے متعلق انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔چو تھے روز و فعتا یہ شہر سنی گئی کہ رات کے پچھلے پہر میں ٹائی ٹینک ایک برف کے بیٹے کے ساتھ ٹکرا کر نصف گھنٹے کے اندر غرق ہو گیا۔جلد ہی اس دہشتناک خبر کی تصدیق ہوگئی۔معلوم ہوا کہ جب قت نکتہ ہوئی بہانہ پوری رفتار پر جارہا تھا برفانی ٹیلے کے بالکل قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ مکہ اگر یہ ہے۔اس وقت کوئی میلہ کارگر نہ ہوسکتا تھا جب نکرہ ہوئی تو برفانی ٹیلے کی نوک نے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جہانہ کا پیٹ چاک کر دیا۔تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جان بچانے والی کشتیوں کی جتنی تعداد قانونا لازم تھی اس سے بہت کم کشتیاں جہانہ پر موجود تھیں۔اور رات کے اندھیرے اور اچانک آنت میں گرفتا ہو جانے سے جو سراسیمگی پھیل گئی اس میں کئی کشتی الفرق ہو گئیں۔عرض یکایک ایک قیامت بر پا ہوگی