تحدیث نعمت — Page 55
۵۵ میں نے پہلی بارہ بغیر اس دن کھایا۔اس کے بعد تو جب موقعہ ہوتا اور اشتہا ہوتی خوب شوق سے کھانا۔ایک دن ہم دوپہر کے کھانے کے بعد بائیسکلوں پر سیر کیلئے نلکے نیو فارسٹ میں چائے کا وقت ہو گیا۔ایک جو نبیڑا نظر آیا توسڑک سے کچھ فاصلے پر تھا۔ہم وہاں چلے گئے۔کھڑکی کے اندر پائے مل سکتی ہے کا اعلان لٹک رہا تھا چائے کے ساتھ کھانے کیلئے مکھن روٹی اور گھر کابنا ہوا ساری تیم تھا۔شاید کیک بھی ہو گا۔لیکن اس مکھن روٹی اور سٹابری جیم کا مزہ میں اتنک نہیں بھولا۔بھوک اور پھر صحت کے زمانے کی بھوک ہر شے کو لذیذ بنا دیتی ہے میری عمر اسوقت ۹ سال تھی اور زیابطیس کے ساتھ میر التعارف ربع صدی بعد ہوا۔جب ذیا بیطس کے پر سیز عاید ہو گئے تو اس کے بعد میری طبیعت کبھی ان چیزوں کیلئے نہیں لائی جن کا کھانا پین میرے لئے ممنوع اور غیر طبیب ہو گیا۔ملکہ کبھی انکی طرف مائل بھی نہیں ہوئی۔فالحمد للہ۔اب تو پر نہیر کا دائرہ اور بھی وسیع اور طبیبات کا حلقہ اور بھی محدود ہو گیا ہے۔لیکن پھر بھی اتنا وسیع ہے اور اتنی نعمتیں میسر ہیں کہ کبھی محرومی کا احساس نہیں ہوا اور ہر تھمے کے ساتھ شکر وامتنان کے جذبات کا ہجوم ہوتا ہے۔جہاز ٹائی ٹینک کیا ا ا ا ا ا اور نہ ہی یہ ہے کہ کالا یا ایک بار کے سلے سے ردانگی کی تاریخ کا اعلان ہوا۔اس جہانہ کی بہت شہرت ہو چکی تھی یہ جہانہ اس وقت دنیا کا س سے بڑا جہاز تھا۔ہر ستم کے آرام بلکہ تعیش کے سامانوں سے آراستہ تھا۔اس کے متعلق دعوی کیا گیا تھا کہ ہیں کی ساخت میں ایسی حفاظتی تدابیر اختیار کی گئیں ہیں کہ یہ عرق ہونے سے محفوظ رہے گا۔یہ بھی توقع تھی کہ ساد تھیئین اور نیو یارک کے درمیان تیز رفتاری کا سہرا بھی اس کے سرہے گا۔بعد میں اندازہ کیا گیا کہ میں ہوس غالباً اس کے غرق ہونے کا باعث ہوئی۔بہت سے مشاہیر امراء شرفاء اور فضلاء اسکے مسافرتی میں شامل تھے۔اس کے پیسے نچلے حصے کو جو پانی کے اندر تھا اس طور پر علحدہ علحدہ حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا کہ اگر کسی ایک حصے کو کوئی نقصان پہنچے تو اسے فوراً باقی توی سے علیدہ سر بمہر کر دیا جائے تاکہ بغیرکسی دوسرے حصے پر اثر ہونے کے اس حصے کی مناسب مرمت کرائی جاسکے اور اس اثناء میں جہاز کے بقیہ حصوں اور اس کی رفتار پر کوئی مخالف اثر نہ پڑے۔بور نمتھ سے تماشائیوں کا ایک جہاز ساؤتھ میٹن اس جہانہ کی روانگی کا منظر دیکھنے گیا۔اس دن کے اخبارات اس جہاز کے مختلف عرشوں اور ان پر میباشد آن نشوں کی عکسی اور لفظی تصاویر سے پر تھے مسٹر باؤنش اور میں ساؤ تھیمپئن تو نہ گئے۔لیکن جو کچھ اخباروں میں چھپا ہم نے بہت دلچسپی سے پڑھا۔ٹائی ٹینک پر سفر کرنے والے مسافر تو انگلستان کے سب علاقوں سے تھے۔ڈائٹ سٹار لائن یعنی جہاز کی مالک کمپنی کے ایکٹے امر کر مسٹر امیری بھی ان میں شامل تھے۔لیکن حملے میں کثرت بوی نم تھے