تحدیث نعمت — Page 698
منہایت آسان ہو گیا ہے۔میرے دادا جان چودھری سکندر خان صاحب نے قریب ستر سال قبل حج کیا تھا اور حسن اتفاق سے ان کے باتھ کی لکھی ہوئی ڈائی جس میں انہوں نے اپنے حج کے سفر کے حالات درج کئے تھے مجھے مل گئی ہے۔ہاء میں میرے والدین نے ج کا فریضہ اداکیا اور ان کے سر کے حالات کسی قدیمان سے سنتے کا اتفاق ہوا۔جن سے اندازہ ہوتا تھاکہ چند سال قبل تک یہ سفر کسقدر صحو تبناک تھا۔ہمارے وطن سے حجاز کا سفر عموما کمیٹی یا کرا چاک ریل کے ذریعے اور وہاں سے جب تک بحری جہازوں سے ہوتا تھا جبارے پہنچنے سے پہلے کامران کے جزیرے میں قرنطین کی مدت گذارنا ہوتی تھی جس کی میعاد دس دن سے لیکر دو ہفتے تک ہوتی تھی۔معدے میں جہاز سے اترتا اور واپسی کے وقت پر جہاز پر سوار ہونا کشتیوں کے ذریعے ہوتا تھا کیونکہ اس وقت تک ابھی جدے میں با قاعدہ بندر گاہ کی سہولتیں نہ تھیں جیسے اور مکہ معظم می پنے کا پانی قیمت مناتا اور رات میں بعض دفعہ بانی تک کے تے میں کچھ جان جہاں کاشت کی تاب نہ لاکر جان بحق ہو جاتے تھے۔ایک ایسی خبر شائع ہونیکے وقت میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں لندن میں حاضر تھا۔حضور نے بھاری اور ادیان تاری که میروالدین کیا اور اس سال حج بیت اللہ کے لئے گئے ہوئے تھے) غیرت معلوم کر کے حضور کو اطلاع دی جائے۔چند دن بعد قادیان سے باید تا اطلاع می ک میرے والدین فضل اللہ واپس پہنچ گئے ہیں۔فالحمدللہ اب اللہ تعالی کے فضل سے اور سعودی حکومت کی مساعی جمیلہ کے نتیجے میں جدہ ، مکہ معلمی مامنی ، عرفات ، مزدلفہ، سب مقامات پربیٹھے پانی کی فراوانی ہے اور اس لحاظ سے کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں۔پہلے وقتوں میں جدہ سے مکہ معظ کا فرانوں پر رو راتوں اور اک دن میں طے ہوتا تھا کی فاصلہ معظمہ قریب چالیس میں ہے گرمی کے موسم میں درمیانی در حجاج کیلئے سخت تکلیف کا موجب ہوتا تھا۔پڑاؤ کے مقام پر کوئی سایہ نہیں تھا جان کوئی چادر وغیرہ تان کراس کی اوٹ میں دن بسر کرتے تھے۔مکرمعظمہ سے مدینہ منورہ کا سفر جب کے رستے بھالے کیا جانا تھا۔تیر قافلے اس سے تیرہ دن میں یہ سفر طے کرتے تھے اور عام قافلے نیزہ سے سنترہ دن میں میرے دادا جان اور ان کے تعین رفقاء نے یہ سفر عبرے سے بلیوں تک دو دن سے بھی کم عرصے میں بحری جہاز کے ذریعے کر لیا اور ابو سے مدینہ منورہ تک تین دن صرف ہوئے۔واپسی پر بھی کی طرق اختیار کی اور اس زمانے کے حالات کے مطابق ان کا یہ سفر بہت سہولت سے طے ہو گیا اب بچتے سڑکیں تیار ہو جانے کے نتیجے میں حجرے سے مکہ معظمہ کا سفر ای میں رکھنے میں اور کار می ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوجاتا ہے اور بارے سے مدینہ منورہ تک کا سفرکار میں چھ گھنٹوں میں سے ہو جاتا ہے۔اب ترمکہ معظمہ سے براہ راست بھی ایک سٹرک مدینہ منورہ کی سڑک کو بالغ پر جاکریل جاتی ہے میں سے اور بھی وقت کی جا ہے۔بہت سے مدینہ منورہ کا سفرہوائی جہاز کے ذریعے ایک گھنے سے کم عصہ میں طے ہو جاتا ہے۔وطن سے روانہ ہونے سے قبل ضروری ٹیکسوں اور مناسب دیگری احتیاطوں کے نتیجےمیں قرنطین کی ضرور نہیں آئی اور برقی کی سویلی میں آجانے کی ہے اور اسے کام سے دوستوں میں ہے ا جاتا ہے۔اور اگر وقت کی لگی ہو تو اس سے کم یں بھی اس سفر کی کمی ہوسکتی ہے۔صحت پر بھی کوئی ایسا فرشتہ نہیں پڑتا۔میرے دادا جان را ہوتو اس سفر انان استان کا کم عمری کا کرایہ ادا کیا تھا۔واپسی کے سفرمی ان کے ایک رفیق سفر کو کراچی میں یا پیش کی شکایت