تحدیث نعمت — Page 694
۶۹۴ ساتھ خشکی کے راستے سفر کرکے آتے ہیں اوراسی طریق سے واپس جاتے ہیں کہ علم اور دین منور میں ایک اپنا نام ای سی سے مقرر ہیں۔اس انتظام کے نتیجے میں ترکی اور ایرانی حجاج کو بہت سہولت رہتی ہے۔طواف کے دوران میں بھی ان کے حجاج اکٹھے رہتے ہیں۔ایرانی حجاج کی لولی توطواف کے دوران میں بازو میں اندر ڈالکر ایک مضبوط بخیر بنالیتی ہے جس سے انہیں تو سہولت رہتی ہے اور خواتین اور ضعفاء کو درمیان میں رکھنے سے آکی حفاظت بھی ہو جاتی ہے لیکن یہ طریق بعض دفعہ دور سے جان کیلئے اذیت کا موجب ہوتاہے۔حجراسود مقام معلم اور مقام ابرہیم کے درمیان یہ محدود ہونے کی وجہ سے ہجوم کا یہاں دور ہوتا ہے۔رسول اله صلی لہ علیہ کی کی ہدایت ہے طواف کے دوران یں اور خصوصیت س حجراسود کے قرب کاپیل نہ ہونی چاہیے تا کسی کا ایک مرتب وہ ترکی جان است اطمینان سے طواف کرتے دیکھے گئے۔ان کی پچان ان کے لفظ سے بھی ہو جاتی ہے۔ان میں سے اکر بیٹری اللہ اکر انی میں ہے یا امی کی الخط انتی و العالم با اتوار کی صبح کو انا کا منظر ہے طلوع آنا کے دوران ہو مین اپنے اریوں اور موٹروں کی کثر کی وجہ سےبہت اروانا تھا۔کثیرتعداد جان کی اک منظر سے سنیے منی سے عرفات، عرفات سے مزدلفہ، مزدلفہ سے منی اور منی سے واپس مکہ معظمہ تمام مناسک پیل ادا کرتی ہے۔حج کے ایام شروع ہونے کے ساتھ ہی ہر سمت سے آنیوالے حجاج بیت للہ کی طرفسے تقلید شروع ہو جاتی ہے۔" لبيك اللهم لبيك۔لبيك لا شريك لك لبيك - ان الحمل والنعمة لك والملك لا شريك لك - احرام باندھنے کیساتھ ی تین بار بلند کی جاتیہے۔دنیا کے ہرگوشے سے بونی کوئی حاجی جی کے ادارے سے عازم ارم مجانہ ہوتا ہے تانیہ کی آواز بلند کرنا شروع کردیاہے اورایام میں تو تواتر الیہ کا درد ہوتاہے۔بی بی نظام ہے ان ایامی یاسایی و متواتر بلی کاورد تا ے چنانچہ دینہ منورہ سے واپسی کے سفری کرا کے ریڈیو پر متواتی کا درسنا دیا اور ارام بھی تلبیہ کرنے میں شال رہتے ے گریون کیا اس وقت دیوالیہ اور سنائی دیتی تو اپنے طورپر تلیں مصروف رہتے اور کی حالت بیایم حج میں تھی۔لبيك اللهم لبيك ، لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك - لا شريك لك - جيب مسنون دعاؤں اور مناجات میں زمین اور زبان معروف نہ ہوتے تو تلی کے کلمات زبان پر جاری رہے اور دل و دماغ پر ایک ولولے کی کیفیت طاری رہتی۔ریڈیو پتیلیہ اور اس قدر شیری لہجے میں ہوتا تھا اور تلی کے کلمات دل میں ایسی والہانہ کیفت پیدا کر دیتے تھے کہ انھیں مات پر نم رہتی تھیں۔مدینہ منورہ کے قیام کے دوران میں طبیعت زیادہ تر درود شریف کی طرف مائل رہتی تھی۔عام مسنون صلواة اور سلام کے یہ عاجہ اکثراوقات حضرت یح الموعود علیہ الصلوۃ السلم کے اپنے الفاظ میں حضور کی طرف سے حضور کے آتا اور موب صلی الہ علیہ وسم پر درود بھیجنے کی مصروف رہتا تھا۔يارب صل على نبيك دائما في سنه الدنيا وبعث ثانی۔ایام حج میں بھی ان الفاظ میں درد بھیجنے کی سعادت متواترہ حاصل ہوتی رہی وكان هذا من فضل ربی۔مکہ معظمہ سے منی جاتے ہوئے ان تمام کیفیا میں شدت پدا ہوگئی دل لکھا ہوا، زبان کیسے تر اور آنکھیں جاری تھیں۔دائیں بائیں آگے پیچھے جوان معمری مرد ، عورت، گورے 10 کائے شمال اور بجنوب سے مشرق اور مغرب سے دنیا کے کناروں سے کشان کشان لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك -