تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 689 of 736

تحدیث نعمت — Page 689

جہاں میری آنکھوں نے پلی باردہ معلوہ و مشاہدہ کیا۔حضور کی عمراس وقت پندرہ سال اور آٹھ ماہ تھی میں حضور سے چار سال شبیہ پوری طرح محفوظ ہے۔اس وقت حضور سرخ رنگ کی ر ی ا سنے تھے مار پیت حضور نے کچھ رصہ بعد شروع کی۔ترکی کلاہ تھا۔اس کے بعد سالانہ جلسے کے موقعہ پر دسمبر کے مہنے میں ہرسال زیارت کے مواقع نصیب ہوتے تھے لیکن ابھی ذاتی شنا کی کی سعادت حاصل نہیں ہوئی تھی۔حضرت سیح موعود علیہ اسلام کے آخری ایام لاہور کے دوران میں بھی صاحبزادہ صاحب کی زیادت کے مواقع نصیب ہوتے رہے لیکن باوجود اسکے کہ میر دوستان مراسم شیخ محمد میر اب دور بودهری فتح مرسال محب ے ساتھ قائم ہو چکے تھے اور یہ دونوں اصحاب صاحبزادہ محمداحمداسلامی لاتے تھے کہ یہ بات نہ ہوتی کہ کی وساطت سے بریانی کی کوشش کرتا۔حجاب مانع مفاد دیکھی بھی تو نہیں دو سے دیکھا کرنا ہی کی کیفیت رہی۔اء میں جب صاجزادہ مرزا بشیر احمدصاحب گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے تومیرے انکے ساتھ گہرے دوستانہ مرام قائم ہوگئے۔اس کے بعد جب کبھی یں قادیان جان تو صاحبزادہ صاحب مجھے اپنے ان مہمان ٹھہراتے۔جب میں آخر است را میں 191 " فت ای ایم اولی کی مدت میں انگلستان کے سفیران یا ادارہ البر امرات رمایا کہ مازاد میرزا محمودامانی سے بھی رخصت ہوتے جارہ۔چنانچہ انکی وساطت سے اجازت ملنے پرمیں نے پہلی بار حضرت اد مرزا بشیرالدین محمد احمد صاحب کی خدمت می باریابی یک ساعت اصل کی۔اپنے اندر شفقت چنائی فرمائی اور ا دریا کبھی بھی خط لکھتے ہیں۔خاک۔گاہے گا ہے تعمی ارشاد می چند سطری خدمت عالی میں ارسال کرتا۔حضور شفقانہ رجم ارشادات سے نوازتے۔ضرت علیہ الیہ اول کے مال پریت کا تحریری عہد نانک نے حضرت علی البیع الثانی کی خدمت می انگستان سے یا پیش کر دیا۔شروع نومبر کہ میں وطن واپسی پر خاک رسیالکوٹ میںاپنے والدین کی خدمت میںحاضر ہونے سے پہلے قادیان حاضر ہوا اور حضور کے دست مبارک پر بیعت سے فیضیاب ہوا۔اسی وقت سے حضور نے خاک کی تربیت نے مبارک ہاتھوں میلے لی شروع شام میں غالب مارچ کا مہینہ تھا، حضور نے اراور مایایی ایتالیا میں امت محمدی دلی کا ایس قرار پایاہے جلسہ اس میں اردو، عربی، انگریزی میں تقریریں ہونگی اور سوال و جواب بھی ہوں گے۔ہم چاہتے ہیں تم اس جلسے میں ضرورت مذہب انگریزی میں تری کرد واک کرنے کو یا ان کے عالم مع عرض کی حضور اکارت را میدان میں محض نا بلد ہے۔فرمایام نوٹ را دستور اور اللہتعالی کے مار کر اپنے دور کے استاد تھے ہی حضور نے از اره صد نواندش والطان خاک کو اپنی خاص شاگردی کا فرع فرمایا۔اوردن بدن حضور یکی تو را در شرق میں اضافہ ہوتا گیا۔است ایام میں ایک سیالکوٹ سے نقل مکان کی ایک کر کے ایک کی تیس سال ہو گیا۔ابھی اور تین اور سے لا ہورا