تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 688 of 736

تحدیث نعمت — Page 688

۶۸۸ آبادی میں ایک نماز حیثیت رکھتی ہے تے میں حضرت نبا لیفتہ المسیح الثانی کا وصال | و نومبر کی شام و پبلک جلسہ تھا۔اسی سر پر ربوہ سے بذریعہ تار خرمی کہ حضرت خلیق الی الان کی باری تشوینیک صورت اختیارکرگئی ہے۔معلوم ہو ہی یہ ہوائی کمپنی کے در میں گا اوروہاں روایت کرنے پر معلم ہوا مجھے اور پینے کیلئے تین دن درکار ہوں گے۔وہاں سےمیں احمدی مین ہاؤس گیا اک شیخ عبدالواحد صاحب اور احباب کے ساتھ مشورہ کرکے ان پر کام کروں۔وہاں پہنچے پر علم ہوا کہ نور کے حال کی اطلاع آ چکی ہے۔انا لہ وانا الیہ مصوبه و یا برای من ماندہ کے تواس باختر رضامندی ظاہر کرتے گئے۔بعد مشور ہے یا کہ چونکہ میں اب کسی مصور جنازے میں ال ہونے یا خلیہ کے انتخاب میں شریک ہونے کیلئے بروقت نہیں ہے سکتا اس لئے سفرکے پروگرام میں کوئی تبدیلی کرنا عیت ہو گا۔اس کے علاوہ آخری وقت پر شام کے جلسے کی منسوخی بھی مناسب نہیں شیخ صاحب کی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ جلسے میں شامل ہو سکتے۔اور جزائر کی جانوں کو اطلاع کرنے اور ان کے استنصادرات کا جواب دینے کیلئے بھی من ناؤ میں انکی موجودگی لازم تھی۔اگرچہ میری ان حالت بھی ایسی تھی کہ طبیعت پر مضط دشوار مورا ھالیکن مجلس میں میری حاضری ضروری تھی اسے میں بلدیار رہ کر بوتل میں پہنچایا اور وردی قرا سورہ فاتحہ کے بعد اس سانحہ کا اعلان کرکے اور اسکے پیش نظر رحاب صدر سے اجازت چاہی کہ جلسے کی کاروائی میری تقریر یک محدود رہے اور ابتدائی اری تقریر اور آخری صدارتی تقریر اور سم کا پڑھنا کر دیا ہے۔جناب نے بل تامل اس کے مطابق جیسے کی کاروائی انجام دی میرے لئے اس موقع پر تقریر کا بھانا ہت کا ارتعالی سے بن پڑا جو عمو زمین میں اللہ تعالی ی عطا کردہ توفیق سے بیان کیا گیا۔و رات میرے لئے سخت کرب کی رات تھی۔پچھلے پرمیں نے ایک خواب دیکھا جس کی راضی تیر تھی کہ خلیہ کا انتاب ہو گیا ہے۔منتخب تو نوائے خلیفہ کی عمرہ سال ہے اور انکی طبیعت میں بہت رشد، بیا اور حلیم ہے۔میں نے موجودہ ی زرداری کا انداز بیان کیا که زاده انظار رانا محمد حاج خلیفہ منتخب ہوئے ہیں۔حضور کی کرکے تخلی ر را اندازہ تھا کہ سا ہے۔بعدمیں معلم جو کہ آپ کی داد ادا کی ہے یعنی آپ کی عم اتخاب کے وقت پورے نالی تھی۔اور نور کی سہ پر کومیری روانگی نانی کے مار سے تھی۔احبا سے رخصت ہو کر جب میں ہوائی جہنہ میں بٹھ اور پانی میں مول لیا اور گویا جذبات نے اعلان کر دیاکہ ایک تو میں ضبط کی زنجیریں کڑے رکھنا مصلحت کا مطالبہ تھا لیکن اگر میں رخصت زندگی تو ہیں طوفان کی شکل می خروج کرنا ہو گا۔اب پر قرن مصلحت میں تھا کہ دل اور آنکھوں کو خاموش اظہار کی اجازت دیدی جائے تا حیات کا سمندر یک لخت تلاطم میں نہ آئے۔اک لینڈ تک چار گھنے کا سفرتھا۔پچھلے ساٹھ سال کامرانی کی توی یک آہستہ آہستہ میری نظروں سے گزرنے لگا مجھے ستمبر میں پہلی بار حضور رضی اللہ عہ کی زیارت نصیب ہوئی تھی۔میں شہر سیالکوٹ کے اس مقام کی نشاندہی کر سکتا ہوں