تحدیث نعمت — Page 682
اور فقہی مائل پراستفسارات متواتہ مفتی صاحب کی خدمت میں اور ان کے دارے میں پہنتے رہتے ہیں میں کے جوابات ہم پنچائے جاتے یں۔نکاح اور طلاق وغیرہ کاسب انتظام اور انفرم ان کے ادارے کی طرف سے کیا جاتا ہے۔آخرمیں مفتی صاحب نے ایک کمرے کی طرف ار کیا اور منایا جائے نوش کریں کمر میں داخل ہو تو دیکھا کی مرمت کی دنیات سے لدی ہوئی ہے۔پارا توریا کباب ، نان ، مختلف انواع کے حلوہ جات، یا ا نہور سب تازہ تیار شدہ موجود تھے۔مہمان کوئی ای در حین کے قریب تھے۔کھانا چای افراد کو وفات کرسکتاتھا تم نے مجھ لیاکہ چونکہ م دو پر و حاضر نہیں ہوسکے تھے مفتی اس نے فتوی جاری فرمایا کورد پر سر پر ہوگا میرے لئے بڑی مشکل تھی کینہ کو ون میں بھی کھانا دیا تھا اور ری کئے پر سب بھی ام ** تھا لیکن مفتی صاحب کی شان بھی بھی گوارا نہ تھی پری کو خیرباد کہتے پانی میں پیسے جس شے کا بھی انتخاب کیا اسے حد درجہ نی پایا۔کھان کے دوران می گفتگو میںبھی تنوع پیدا ہوگی۔مفتی صاحب کی ایک بت سے مجھے چھ حیرانی ہوئی انہوں نے فرمایا قری سال ہوتے ہی برای فرزند شمس الدین بیاں سکول کے سری دیے میں ان میں ارادہ کیا کہ اسکے سکول سے مارا کر کے ی کمی کی کیا پاکستان بیوری چنانچہ اس غرض کیلئےتم نے ماں سے نے سفارتخانے کی صرف ایک خط حکومت پستان همچنا ا پیاسا ختم کرکے اب وہ تعطیلا میں گھر یا ہے اسے تمہاری مات کا بہت اشتیاق ہے یعنی صاب کے مانے مانے شمس الدین ضیاء الدینوں ساتھ کے مکان سے تشریف لے آئے بڑے چاک سے دور کا ایسا تھا اور اور ان کو اس امر کی ہے فورا گویا ردیاگیا۔اسوقت مجھے نہیں ہوا کہ کن ہے مفتی صاب کاران پاکستان کی حکومت کہنا یہ ہو لیکن نیویایک ایسی کے کچھ وحید یرے دریافت کرنے پر علم ہو کہ منی صاحب کا نام توزارتخاری این گیاتھالیکن رات کی رو سے اس کا کوئی جو بھیجیں قرین مصلح نہ مجھا گیاتھا واللہ علم بالصواب۔مفتی صاحب اور مخدوم المعلوف نہایت سنجید طبع، ملنسار، متواضع، عالم اور بزرگ تھے۔مخدوم اسمعیلوں نے فرمایاکردہ ایک فر گالی دن کے ساتھ پاکستان بھی گئے تھے۔یہ وسط ایشیا کے اسلامی ثقافتی مرکز سے با صد را در نائب صدر کے نہایت شکر گذار در منون واپس لوٹے۔تاشقند کے قریب ایک کو خود مجھے کو دیکھنے کا انتظام کیاگیا تھاوہ اسے قریب تیس میل کے فاصلے پرہے۔وہاں کو لخوذ کی نائب صدر احہ نے کو لخوذ کے دفتریں ہمارا استقبال کیا۔ان کے میاں تاشقند می مدرس ت را با خانوں میں اور کولو کی ما سرگرمیوں کے متعلق پوری اقفیت رکھتی تھیں۔دفتر میں مارے والوں کے جواب دینے اور میں ضروری معلوات ہم پہنچانے کے بعد میں مدرسہ، شفاخانہ تعارفی ادارات وغیرہ دکھانے کیلئے ہمارے ساتھ ہوئیں۔گاڑ میں سے گرتے ہوے ہم نے دیانت کا کیا کی ہے ہم کسی رانی مکان کےاندر جاکر اور ان کا اندازہ کر سکیں۔انہوں نے اتر در فرمایا۔بیک۔چنانچہ قریب ہی کے ایک مکا کے اندر یہیں لے گیں۔دوپہر کا وقت تھا۔گاؤں کے فراخ رستوں پر ہم نے بہتکم لو آتے جاتے دیکھے جس سے ماہر تھاکہ ہرکوئی کھیتوںمیں اپنے کام میں مصر ہے۔گو کے اندر بھی ہیں ایک نیا معمر خاتون کی ترائیں " 1