تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 648 of 736

تحدیث نعمت — Page 648

۶۴ طرح پر یس کیساتھ تعلقات خوشگوار رہتے ہیں۔پریس کے نائندگان پرسیشن کے دوران میں ایک بار صدر کے اعزاز میں شام کے کھانے پر ایک حش منعقد کرتے ہی میں میں کھانے کے بعد موسیقی اورناچ اور تمنا ہوتا ہے۔یہ تقریب نیم شب بعد دو بجے تک جاری رہتی ہے۔ایک روز میر سیکریٹری نے کہاکہ قوام متحدہ کے مانین کی انجمن کے صدرنے دریافت کی ہے کہ فلاں شام نہیں اس سین کیلئے موزوں رہے گی یں نے کہ ان سے کہیں مجھے اس قریب کیلئے کوئی شام بھی موزوں نظرنہیں آتی کہ کچھ ران و مولتی لیکن مرا یا پنچادیا۔دود کردن مافین کی انجمن کے صدر ملاقات کیلئے تشریف لے اور فرمایا سر پینڈنٹ کیا یہ ٹھیک ہے کہ آپ ہمارے سین کے لئے کوئی شام تاریخ نہیں کرسکتے۔میں نے کہا درست ہے۔وہ بولے کہ یہ تقریب تو ہر سال ہوتی ہے اور ہر صدر صاحب تشریف لاتے رہے یں کیونکہ یہ تو ہوتی ی صدر کے اعزاہ میں ہےمیں نے کہا ہر وہ اپن اپنی ذات کا زمہ دار ہے۔میں اپنے پیش رو صدر صاحبان کے ری کی پابندی لازم ہیں سمجھا۔انہوں نے پوچھا آخر آپ کے ہاری دعوت قبول نہ ہی کی کوئی وجہ میںنے کہا ر ہ یہ ہے ک اس تقریب کار علومغربی تہذیب اور معاشرت کی تصویر ہے سی کر میری بیوی کو کچھ بھی نیت نہیں کہ ایسی تلی میں میں نے والے بعض اشغال سے میری طبیعت منفض ہوتی ہے۔اور گومی خودا میں شرکت نہ کروں پر بھی دو مری طبعی پرگراں ہوگے ند کی ضرورت ہے میں ایک رات کا آرام ایسی تقریب کی خاطر قربان کرو اور ان عادات اور عبادات کے اوقات میں اس کے یم ملی اور بے قاعدگی پیا کروں ؟ انہوں نےکہا ایک شا کے کھانے کی دعوت میں تو جاتے ہی میں نے کہا جاتاہوں ین درس دینے سے چند قبل اجازت لیک یا آتا ہوں انہوںنے کہا ای ی ی ی ی ی ی ی ی انتظام کریں گے کیا ختم ہوتے ہ میں آپ کا جام صحت تجویز کروں گا اور آپ اسکا جواب دیکر بیک لے آئیں۔میں نے کہا صورت میں میں بڑی خوشی سے شامل ہوں گا۔ی را اسم پینے پرمیں نے ایجنڈے پر سرسری نگاہ ڈالی تو اس ہوا کہ جو ایجنڈ میںنے سے کیا تھا اس میںکچھ بدیلی کی گی ہے۔میں نے سرطانی سے دریافت کی تو معلم ہوا کہ ایک دن کی طرف سے کسی وقت کی نا برای تبدیلی کی خواہش کی گئی تھی اسلئے ایجنڈے میں تھوڑی سی تبدیلی کردی گئی۔میںنے کہاآپ نے مجھ سے کیوں ذکر کیا ہے انہوں نے فرمایا سرقت ات کے گیارہ بج چکے تھےاور مجھےعلم ہے کہآپ جلد سوجاتے ہیں۔ساتھی مجھے یقین نا کہ اگر آپ انکی خواہش پہنچائی جائے تو آپ ضرور اسے منظور کرلیں گے۔میں نے کہا یہ تو درست ہے اور جو تبدیلی ہوئی اس پر مجھے اعتراض نہیں۔لیکن اصولاً طرق صحیح نہیں۔یہ ھی درست ہے کہیں جلد سوجاتا ہوں اور آسمان کو دین کاکام کرنا پڑتا ہے جی میں بہت قدر کرتا ہوں۔لیکن رات کو ٹیلیفون میرے بت کے پاس ہی ہوتا ہے۔جب ضرورت جو آپ بلا تکلف رات کی کسی ساعت میں میرے ساتھ بات کرسکتے ہیں میں آپ کو یقین دلاتاہوں کہ آپ بھی مرے آرام میں مل نہیں ہوں گے نہ میری راہ میں نید ک اثر محسوس کریں گے اور بات ختم ہون کے نصف سن کے اندر میں پھر گری نیند سو رہا ہوں گا۔|