تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 642 of 736

تحدیث نعمت — Page 642

۴۲ ( UPSIDE DOWN HOTEL) قاعدے کے خلاف خوابگاہ میں جانے کیلئے لفٹ میں نیچے کاٹن بنانا پڑتان شروع شروع میں تو علی بھی ہو جاتی تھی بیش ہمارے سونے کے کمرے پینے کی چوتھی منزل پر تھے جب باہر جانا ہوتا تو سونے کے کمرے سے نکل کر فٹ میں داخل ہو کر نیچے جانے کا ا ا ا ا ا اور سونے کے گروں کی تھیں ہیں تو میں نے جاتے اس وصیت کی وجہ سے ا ول وا ا پ نے پول وس منزل بھی پایا جاتا تھا۔ہر وانگا کی بڑی کر کیا دوا کی ر کھتی تھیں۔یہ نظاره است روشنی ھا ہوٹل میں یونان کے مطابق بہت اچھا کھانا ہی کار را می نون کی رو است و امام رفت خوشگوار تی۔ہرمندر کیلئے سارے قیام کیلئے علیدہ کارکا نظام تھا سکیٹر کیلئے الگ کارتنی مندوب کے ساتھ ایک حفاظتی عرصہ افراد ایک یونیورسٹی کا طلب علم بطور امر رابط الا وقت ڈیوٹی پر رہتے تھے مورا کر کوشام کے وقت رخصت ہو جاتا تھا کین مناتی او رات کو بی خوابگاہ کے باہر برآمد میں ڈیوٹی پر رہتا تھا۔حکمت میں جو پارٹی ان دنوں برسر اقتدارتی ا میں مسلم اراکین بھی شامل تھے۔دو وزیر سلمان تھے وہاں کی علم آبادی ہندوستانی نرا ہے۔ان میں سے بعض خاندان وہاں تین پشت سے آبادمیں اور تجزیے کی ٹوٹی پھوٹ انگریزی ہی بولتے ہیں۔اپنے وطن کی زبان بھول چکے ہیں۔میں نے ایک حفاظتی افسر سے اس کا نام دریافت کیا۔اس نے کہا اور علی۔مزید گفتگو سے علوم کو وہ بارہ بہن بھائی ہیں۔کچھ بہن بھائی ان سے بڑے تھے اور سب شادی شدہ تھے۔سب سے بڑی بہن کے بھی بارہ بجے تھے میں نے برائی کا اظہار کیا تو ان علی صا حب کرائے اور کیا میرے والدین ۵ ۵ سال سے معرکے میں اور انکے پوتوں پوتوں، نواسوں، نواسیوں کی تعداد ۵۲ ہے ! ارشد از مان حساب کا ایک ایک کاری کر کے سو مرور کی ہر دس سال ہے اور آہٹ موٹ کے شور عمر سال ہے اور آٹھ بجے ہیں ! ٹرینیڈاڈ سے واپسی پر ہوائی جہانہ میں میرے پہلوٹی {" یک نوجوان عیانی یوٹیلٹی کے اور بیٹے تھے ان سے مںنے اس بت کا ذکر کیا انہوں نےفرمایا بھی بارہ بہن بھائی ہیں۔اور علی صاحب مستعد اور اچھی قابلیت کے نوجوان تھے لیکن دن سے زیادہ واقفیت نہیں تھی۔ان کے ایک بڑے بھائی کسی قرب کے جزیرے میں پولیس میں بھرتی ہو کر عیائی ہو چکے تھے میں نےاقوام متحدہ کے بال روکنے کے وار کرے کہ کرانویلی کو نظام متحدہ کی فیلڈ سروس میں مر کر دیا اوران کی تعیناتی اردن میں ہوگئی۔وہاں جانے سے پہلے انہوں نے شادی کر لی۔وہاں عربی بی سیکھ لی اور دن سے واقفیت بھی حاصل کر لی۔المین اسلامیہ ٹینڈاؤ کی طرف سے مولوی کمال امین صاحب کی تحریک یہ ہو ٹرینیڈا کی حکومت میں وزیر تھے انجمن دعوت اور اسلام پر تقریر کا اہتمام اس امیہ نے میری دوپہر کے کھانے کی دعوت کی اور سلام پر تقریرہ کا نظام بھی کیا۔فجزاهم الله۔ٹرینیڈاڈ میں جماعت احمدیہ کے مہبر سے ملاقات | ٹینڈا میں احمد میر صاحب سے ہی میری دو تین بار طاقت ہوئی ان کی رہائش پورٹ آن سپین سے باہر تھی۔میں ان کے مکان پر بھی حاضر ہوا۔