تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 637 of 736

تحدیث نعمت — Page 637

۶۳۷ نصف کے قریب افریقن اور ایشیائی ملیں اور جلد یہ تعداد نصف تک پہنچ کر نصف سے بھی تجاوز کر جائے گی۔اس لئے بالکل مناب اور جائزہ ہے کہ ہم اسمبلی کی صدارت میں نصف کے حقدارہ شمار کئے جائیں۔لیکن ہمیں چاہئے کہ ہم موجودہ افریقین صدر کا سال ختم ہوتے ہی سال مالبعد کی صدارت حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں۔جبکہ باقی ملک کےنمائندگان کے ساتھ یہ سمجھو نہ کریں کہ رودسر ال صدارت کیا ایشان یا افریقی مدرس کی کمائی کریں متخب ہوا کریگا۔درمیان سال میں سے بانی مالک بند کریں منتخب ہو جایا کرے۔میرے رب رفقاءنے اس جون کو پسندکیا اور مزید شورے کے بعد پایا کہ آئندہ سال کی صدارت کےلئے ہم نبینی مرین ملک کو پیش کش کریں کہ ہم اس بیان کے ماندے یادیو کی تیار کرتی ہیں اور یہ لاطینی امرکی ہم سے وعدہ کریں کہ وہ ہر دوسرے سال میں امیدوار کوہم ان میں سے صدا کے لئے پیش کریں اس کی نانی کیاکریں گے سفر ما یونایت شریف الطبع انسان تھے سولہویں اجلاس میں اول کمیٹی کی صدارت نہایت کامیابی سے کر چکے تھےاور ہر مت سے خراج تین اصل کرچکے تھے۔این امکان ملک کے نماندوں نے بور ہوگئے۔ابھی اس موت پر و اپنے منصب پر ریستوران ہیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور تعلی کو وطن واپس چلےگئے۔لاطینی امری نانوں کے ساتھ بھی کسی او امیدوار کے متعلق ہماری کوئی فیصلہ کن بات نہیں ہو پائی تھی کہ پر دیسی لا سیرا سفر سیلون متعین اقوم متحد ر کینیڈا نے آئندہ اجلاس کی صدات کیلئے اپنے امیدار ہونے اعلان کر دیا پریراسیکا کی اقوام مندر میں عیناتی چند ماہ قبل ی عمل میں آئی تھی۔اس سے پہلے وہ ماسکومی سیلون کے سر رہ چکے تھے اور بدیں وہ مشرقی یورین مالک کے ساتھ ان کے دوستانہ مراسم تھے۔غالباً انہیں ان ممال کی طرف سے تائید کا وعدہ بھی مل چکا تھا سیلون کے تعلقات ایشاء کے بدھ ملک کے ساتھ طبعا نہایت گہرے تھے۔پروفیسر صاحب کو بدھ ملک کی تائی یہ بھی بھروسہ ہوگا۔انہوں نے شروع ہی میں اس امر کا اظہا کر دیا تھا کہ ۲۵ ، ۳۰ مالک کی طرف سے انہیں تائید کے وعدے موصول ہو چکے ہیں۔ان کے بعض انفرادی موشی دین کا کہناتھا کہا اگر کوئی اور امیدوار میدان میں آئے بھی اور بقیہ ریاستوں میں سے نصف کی تائید حاصل بھی کرے توبھی پروفیسر صاحب کے میں ہی ہو ا ا ا ا ا ا ا ا ا م رہے گی اوران کا اتنی ہونا یقینی ہے۔قضیہ کشمیر پر مجلس امن میں پیش کیا گیا ان میں مجھے حکو پاکستان کی طرف سے بات ہوئی کہ قضیہ کشمیر کو مجلس ان میں زیر بحث لانے کی غرض سے مناسب اقدام کرد اسلام میں سے اول اور سب سے اہم مرحلہ تنقل از امین جلیس ہے اور سب اراکین مجلس ک آمادہ کرنے کا تھاکہ وہ مجلس کا اجلاس طلب کرنے پر رضامند ہو جائیں۔پانچ مستقل اراکین مجلس میں سے اس زمانے میں روس کا ی طرف سے تو امید کی توقع نہیں ہوسکی تھی۔کیونکہ ان دنوں شیر کے مسلے پردہ سرکرشنا مین کے اشارے پر چلتے تھے ان کے اس ائے کالای ایرانی برای بار ہوتا تھا وہ مجھے تھےکہ جمانے کے بعداگر کوئی اور بعض اراکین کی طرف سے پیش بھی کی جا تو روس اس کی مخالفت کرے گا اور ایک منتقل کی کی مخالفت کی وجہ سے تجویز ساقط ہو جائے گی اسلئے بحث مباہنے سے کیا حاصل