تحدیث نعمت — Page 46
رضی اللہ عنہ کا نم اکثر اسی بے تکلفی سے لیتے تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر بعض دفعہ صرف "مرزا کہ کرکرتے تھے میاں محمود بھی بچہ ہے۔محمد علی بہت حساس ہے۔بات بات پر درود پڑھتا ہے اور میں ہوں لیکن مجھ میں یہ نقص ہے کہ میں سچی بات نہ یہ کہ دیتا ہوں۔مجھ سے لوگ نصفا ہو جاتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا خواجہ صاحب خلافت کے متعلق حضرت خلیفہ المشلح اپنی لاہور کی تقریروں میں بہت کچھ وضاحت فرما چکے یں آپ کیوں فکر کرتے ہیں۔وقت آنے پراللہ تعالی سے پسندفرمائے گا کھڑا کردے گا۔اس پر فرمایا مینی صادق کمبخت ہمارے خلاف سب کچھ شائع کر دیتا ہے بہانے حق کی کوئی بات نہیں لکھتا۔“ خواجہ صاحب ابھی ہمارے مکان میں ہی ٹھہرے ہوئے تھے کہ بہائی لیڈر عبد البہا صاحب لنڈن نشتریت لائے اور میں نے سنا کہ وہ اتوار کے دن دو کنگ کی مسجد کا افتتاح کریں گے۔اس مسجد کی تعمیر اس طرح ہوئی تھی کہ جب ڈاکٹر سہنری لائٹز ہوں ہور میں اور نیل کا لج کے پرنسپل تھے فارغ ہو کہ واپس انگلستان سجانے لگے تو انہوں نے انگلستان میں ایک مسجد کی تعمیر کے متعلق تحریک کی اور سلمان رؤساء اور فری استطاعت اصحاب سے اس کار خیر میں حصہ لینے کی اپیل کی۔ہزہائی نس بیگم صاحبہ بھو یال اور نواب سرسالا مینگ صاب حیدرآباد نے اس غرض کے لئے معقول رقوم عنایت فرمائیں اور غالب قیاس ہے کہ اور بہت سنے ہی نشانات مسلمانوں نے بھی اس تحریک میں حصہ لیا ہوگا۔ڈاکٹر لائٹیز نے انگلستان واپسی پر ایک وسیع قطعہ زمین درنگ میں خریدا جو لندن سے ۲۴ میل دور مغرب کی طرف ہے۔دو کنگ ایک بڑی ریلوے لائن پر واقعہ ہے اسلئے لندن سے دو کنگ آنے جانے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔اس قطعہ زمین پر ڈاکٹر لائٹر نے تین عمار ہیں تعمیر کر دائیں ایک مسجد جس کا نام علیا حضرت بیگم صاحبہ بھوپال کے اسم گرامی پر مسحدت ہجہاں رکھا۔ایک بالشی مکان جس کا نام س سالار جنگ میموریل ناموس رکھا اور ایک عالیشان عمارت جس میں اور منٹل انسٹی ٹیوٹ علائم کی مسجد اور میموریل ہا ؤس تو پاس پاس ہیں اور ان کا ایک مشترکہ باغیچہ بھی ہے۔انسٹی ٹیوٹ کے گرد بہت سی کھلی زمین باغ کے طور پہ ہے۔ڈاکٹر ائیر کی وفات کے بعد ان کے ورثاء نے اس تمام جائیداد براین الصرف جمالیا اور اسے اپنی ذاتی ملکیت ظاہر کرنا شروع کیا۔جب رائٹ آنرز بیل سید امیر علی صاحب پر بیوی کونسل کی جھی پر تعینات ہو کہ لندن پہنچے تو انہوں نے اس معاملے میں ویسپی لینا شروع کی اور کچھ دیگر سرکردہ مسلمانوں مثلاً نیز مانس آغا خان اور مرزا عباس علی بیگ بود زیرہ ہند کی مشاورتی کونسل کے رکن تھے) کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا اور اس تمام جائیداد کو واگذار کرنے کے لئے جدو جہد شروع کر دی۔آخر بعض شرفاء کے بیچ بچاؤ سے یہ فیصلہ ہوا کہ مسجد ، میموریل ہاؤس اور ان کے سامنے اور ایر دگر در باغ کا حصہ وگذار کردیا جائے اور انسی ٹیوٹ اور اس کے ارد گرد کی زمین ڈاکٹر رائٹرز کے ورثاء کے تصرف میں رہے۔