تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 621 of 736

تحدیث نعمت — Page 621

کمشن سے علیحدہ ہو کر اوراپنے وطن چیکوسلواکیہ سے نقل ہوکر امریکہ کی ڈینو یونیورسٹی میں سوشل سائنس فوندلنشین می پیر نسیم میں مقرر ہوئے تھے اور اب فونڈیشن کے ڈائر کٹر کے عہدے پر سرفرانہ ہیں) تار موصول ہوا کہ ڈمور یو نیورسٹی کے لئے بہت اعزانہ کا باعث ہوگا اگر تم بین الاقوامی تعلقات کے شعبہ کی پروفیسری قبول کرنے پر آمادہ ہوسکو۔تمہاری رضامندی کی اطلاع کا انتظار ہے۔میں ان کی طرف سے اس پیش کش سے بہت متاثر ہو نے کاکو بذریعہ ڈاک بھیج رہا ہوں خط یں انکا شکریہ ادا کرنے کے بعد گذارش کی کمی بعد خور خود کو اس انہیں پاتا کہ ایک قابل قدر پیش کش کو قبول کر سکوں می لیلا میدان میں کارکن رہا ہوں علمی ماحول سے زیادہ واقف ہیں اور سری دیوی کے خالق سرانجام دینے کیلئے سبقدر محنت اور عرق رین کی ضروری ہوگی نہ کرسکوں گا۔اسلئے با دستور اس گہرے احساس کے کہ یونیورسٹی کا پرسکون علی ماحول میرے لئے ایک نعمت ہوگا ارباب وجود د موراد اس کے مضافات کی زور دارش کے میں ان کی پیش کش کا جواب اثبات میں نہیں دے سکتا ہے۔رفقائے عدالت سے تعلقات | عدالت می میرے تعلقات اپنے رفقاء کے ساتھ سارا عرصہ نہایت خوشگوار یہ ہے۔حج ریڈ (کینیڈا ) اور حج شومو ( چین ) کے علاوہ پریزیڈنٹ سیکورتھ (امریکہ ) اور حج کا روا (میکسیکو) کے ساتھ تو گہرے دوستانہ تعلقات قائم ہو گئے۔وائس پرنڈینڈنٹ عبدالحمید بدی آختہ تک میرے ساتھ کمال شفقت سے پیش آتے رہے لیکن وہ بڑے سنجیدہ مزاج تھے۔مجھے ہمیشہ ان کا اب ملحوظ رہتا تھا اسلئے ان سے بے تکلفی کی نیت نہ آنے پائی فرانس کے بیج بارے واں عدالت کے سابق صدر حج باردے والی میل جول میں مجھ سے نہایت خوش اخلاقی سے ( TUDGE BASDEVANT) پیش آتے تھے۔چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ ہوتی تھی۔لیکن اول اول بعض قرائن سے مجھے اس سی ہوتا تھاکہ وہ مجھے کسی قدرشبہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔وہ تھوڑی بہت انگریزی تو جانتے تھے لیکن اس زبان یں بات کرنے میں انہیں حجاب تھا ور می فرانسیس می بات کرنا بالکل نہیں جانا تھا اسے گفتگو کا موقع بھی کم ہوتاتھا علمی لحاظ سے ان کا درجہ بہت بلند تھا۔وہ بین الاقوامی قانون کے میدان کے شہسوار تھے اور اس میدان کے ہر نشیب فراز سے اس در سبہ واقف تھے میں درجہ بقول شیخ سعدی بغداد کے گلی کوچوں سے نازی گھوڑا اور مجھے اس میدان میں پیاده روی کا می زنیم نہیں تھا۔رفتہ رفتہ مجھےان کے رویہ میں خفیف کی تبدیل محسوس ہونے لگی ہے تو مجھے خیال جو کہ شاید میرا یہ اس ان کے رویے کے متعلق صحیح نہیں تھا اور اب خوشگوار تبدیلی کے متعلق جو احساس ہے وہ صحیح نہیں۔لیکن آخر بر اساس پختہ ونے لگا اگر شروع میں انہیں میرے متعلق کوئی شبہ تھا اب وہ دور ہورہاہے یا دور ہو چکا ہے۔میری نصف میعاد گذار جانے تک یہ حالت ہوگئی تھی کہ عدالت کے پرائیویٹ اجلاسوں میں جب کسی سے پرمیں اظہار خیال کرتا وہ توجہ سے سنے۔کبھی کبھی مسکراتے ہوئے اظہار خوشنودی کے طور پر تصدیق میں سماتے اور بعض اوقات فرانسیسی میں بہت خوب بہت خوب کار مولہ افزائی فرماتے۔ان کے رویے کی تبدیلی کا عقدہ اس وقت ھلا جب شارک کے آخر میں عدلت کے پانچویں جم جن میں مں بھی