تحدیث نعمت — Page 619
419 میں پریس کی صلح کا نفرنس میں وہ اپنے ملک کے دن کے لیڈر تھے۔ا دن ایک نیا اور پھر قوم متحدہ کی تشکیل میں شمال رہے تھے یہ ہے او میں وہ امریکہ میں چین کے سفیر مقرب ہوئے اور بین الاقوامی عدالت کی رکنیت کیلئے منتخب ہونے تک دس سال سے زائد عرصہ انہوں نے یہ اہم خدمت انجام دی۔بین الاقوامی عدالت میں اپنی میعاد کے آخری تین سال عدالت کے نائب صدر رہے اور ہر ضروری شام کو ریٹائر ہوگئے۔جی شو مواد رنج ولنگٹن کو دونوں کے ساتھ میرے دوستانہ مراسم تھے۔بیانیہ کے بیج لائٹر پاٹ بھی شاید میں فوت ہوگئے اور انکی جگہ بر طانیہ کے سر برلڈ ٹر میں منتخب ہوئے۔کچھ عرصہ قبل سان سالوے ار کے نجی گر رو بھی فوت ہوگئے تھے۔ایک جگہ پانامہ کے حج الفارو منتخب ہوئے۔سان سالورے ڈار وسطی امریکی کیا ہے کچھوٹا ملک ہے۔جگر بر دریا کے سیاستدان تھے اپنے ملک کی خدمت سے سفر کبر کے عہدہ سے پوری تنخواہ بطور نیشن حاصل کرکے ریٹائر ہوئے اور پھر یک آن مشترک بین الاقوامی عدال کے بیج اور بعدمیں اس عدالت کے صدر ہوئے۔اس عدالت کے ختم ہونے پر وہاں سے میشن یاب ہوئے اور موجودہ بین الاقوامی عدالت کے حجم منتخب ہوئے بارہ سے اسے داد متین سالی عدالت کے صدر اور پھر شہ سے اب تک تین سال نائب صدر رہے۔بشارم می میعاد ختم ہونے پر دوبارہ اور منتخب ہوئے اور یہ دوسری میعاد ختم ہونے سے قبل نشاء میں فوت ہوگئے۔پولینڈ کے جو اسکی ، مر کے بج عبدالحمید بدوی، یوگوسلاویہ کے نور سے پیا اور کنڈ کے جو ریڈ کی میاد کینیڈا بھی اور فروری شکاء کو ختم ہوئی۔ان میں سے جو نا سکی اورج عبد الحمید بدوی تو پھر متخب ہو گئے اور دورے پیچ * : عاادت ور ریڈ کی جگہ یونان کے حج پر پولوس اور آسٹریلیا کے سر پرسی سینڈر منتخب ہو گئے۔کے میرے چھوٹے بھائی عبداللہ خان کی وفات بین الاقوامی عدالت کی رکنیت کے دوران شہر میں مجھے اپنے ای عبداللہ ان کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا۔وہ کام میں ایشین کلی کار تھے ور جاعت احمدیہ کراچی کے امیری تھے طبیعت کے علیم، متواضع ، ما را درکم کو تھے ان کے ہاتھ اوران کی نہ ان سے کسی کو ری نہیں سنا اور بہت ہیں جو ان سے فیضیاب ہوئے کئی سالوں سے ان کی صحت بھی نہ تھی اور رات سے پہلے تین سال توانہوں نے میچ دورو کرب میں گزارے لیکن اس سارے عرصے میں اپنے فرائض منفی یک کما حقہ اسے ینی یک مامان انسان ه سرانجام دی، بنی نوع انان کی گرمی ہمدردی اور ا الہ احمدیہ کی مخلصان خدمت میں کسی کی سکسی کوتاہی سرد نہ ہونے دین ہی کبھی حرف شکایت زبان پر آنے دیا عبدالله ال فرمانبردار بیٹا ، اطاعت گزارہ بھائی ، مونس و غم خوار خاوند ، شفیق باپ، ونادار اور قابل اعتماد دوست اء کی سرپر کو کراچی کے مطار پر دیکھا جب میں نے اسے لاہور جانے کیلئے رخصت کیا۔لاہور پہنچنے کے بعد اسی رات اس کے سینے میں شدید درد اٹھا اور ساتھ ہی بخار بھی ہوگیا۔کچھ دن بعد اس حالت میں کچھ افاقہ تو ہوالیکن دراصل پر طبعیت سالی نہیں کمزوری بڑھتی گئی اور دبے ہوئے وار می ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔آخر اس جان عاریت که به حافظ پر دوست