تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 44 of 736

تحدیث نعمت — Page 44

مهم مهم پھر تو آپ وہی ظفر اللہ ہیں جو میرے والدین سے لندن میں ملے تھے۔اور جو آپ کے ساتھ خط و کتابت رہا۔آپ کے والدین خیریت سے ہیں ؟"۔والد صاحب کچھ عرصہ ہوا فوت ہوگئے، والدہ پر ینٹ فورڈ میں رہتی ہیں۔انہوں نے کانفرنس کے ڈیلیگیوں کی فہرست میں آپ کا نام پڑھا اور مجھے کہا کہ میں پتہ لگاؤں کہ کیا یہ وہی نظر اللہ ہے ہوا انہیں لندن میں ملاتھا۔کیا میں حاضر ہو سکتا ہوں ہے۔ضرور مزدور خیری تشریف لائیں۔" اس طرح اکیس سال بعد میری ملاقات والٹر سے ہوئی۔شام میں جب میں ٹورنٹ گیا تو ایمپائر پالیمنٹری ایسوسی ایشن کی وہاں کی شاخ نے مجھے شام کے کھانے کی دعوت دی۔میرے بائیں طرف ایک مسٹر میکڈانلڈ بیٹھے تھے جو برانٹ فورڈ کےحلقے سے کنیڈا کی پارلیمنٹ کے مبر تھے۔میں نےان سے مسن با ورڈ کا ذکر کیا انہں نے کہادہ میرے قریب ہی رہتی ہیں میں انہیں خوب جانتا ہوں۔ان کی نظر بہت کمزور ہوگئی تھی۔حال ہی میں انہوں نے آنکھوں کا اپریشن کرایا ہے جو کامیاب رہا ہے۔میں نے ان کے ذریعے اپنا سلام مسنر نارڈ کو بھیج دیا۔اس وقت ہماری لندن کی ملاقات پر تئیس برس گزر چکے تھے۔اس کے بعد مجھے عشاء میں پھر ٹورنٹو جانے کا اتفاق ہوا۔رات کے وقت وہاں پہنچے۔دوسری شام بعض دوست مجھے کھانے اور سیر کیلئے نیا گرائے گئے راستے میں میں نے ان سے مسٹر نا ورڈ کے ساتھ اپنی ملاقات کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا برانٹ فورڈ ہمارے راستے سے تھوڑا ہی ہٹ کر ہے واپسی پر ہم وہاں ٹھہر سکتے ہیں۔کھانا ہم نے جنرل ہر اک ہوٹل میں کھایا۔وہاں کھانے کا کمرہ سہے او رجہ کی منزل پر ہے اور وہاں سے آبشار کا رنگین نظارہ بہت بھلا معلوم ہوتا ہے۔کھانا شروع کرنے سے پہلے میزبانوں میں سے ایک نے ٹیلیفون والی خاتون کو ہدایت دی کہ وہ برانٹ فورڈ کی ٹیلیفون ڈائر کٹڑی دیکھ کر پرستر ہاورڈ نام کی خاتون سے دریافت کرے کہ ان میں سے کونسی خاتون تین بیٹوں کی ماں ہے جن کے نام گائی والٹر اور جیک ہیں۔جب ہم کھانے سے فارغ ہو چکے تو معلوم ہوا کہ ٹیلیفون کی کتاب میں دس اندراج مستر ہاورڈ کے نام کے ہیں۔یمین کی طرف سے تو کوئی جواب نہیں ملا اور تین سات کے ساتھ بات ہوئی ان میں سے کسی کے تین بیٹے ان ناموں والے نہیں۔دوسری صبح میرا نام اخبار میں دیکھ کر والٹر نے مجھے ٹیلیفون کیا ور میں نے اسے بتایا کہ کیسے من مسر با ورڈ کا پتہ معلوم کرنے کی کوشش کی تھی۔وال نے کہاکہ میری ویڈ تو در سال ہوئے فوت ہو گئیں۔والٹر مجھے ملنے آیا۔تھوڑا عرصہ پہلے اس کی شادی ہو سکی تھی اپنی بیوی ہوں بھی ساتھ لایا۔اس نے بتایا کہ وہ دونوں رائٹ فورڈ میں رہائش اختیار کرنے کا قصد کر چکے ہیں جلدورات منتقل ہو جائیں گے۔اس کے بعد دالر کی اور میری خو د کتابت پھر شروع ہو گئی اور جو کہ شاہ سے مجھے