تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 587 of 736

تحدیث نعمت — Page 587

۵۸۷ وئی جس کے تنے میں کابینہ کہتی اورمضبوطی کے ساتھ اپنے الٹی کو سرانجام دے سکے۔گور نہ منزل صاحب کے اس انتباہ پر وزیراعظم صاحب کی طرف سے کوئی ردعمل نہ ہوا۔ان دونوں مجھے احساس ہوا ک گورنر منزل صاحب اور وزیر اعظم صاحب کے درمیان باعی کالا امام نہیں کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دونوں اصحاب کی طبائع میں بہت فرق تھا۔وزیراعظم صاحب نے اپنے وقت میں گورنر جنرل کے منصب کے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دیے تھے۔اپنی بیعت کے لفظ سے وہ ایک آئینی گورنر بنا کے نصب کیلئے بہت موردی تھے۔خوش قسمتی سے ان کے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان صاحب ایک سنجیده مراجح محنتی، مدیر ، دوربین اور دور اندیش سیاستدان تھے۔ہر نبیلہ مناسب مشورے اور غور اور تاریہ کے بعد اور فرماتے تھے۔گورنر جنرل صاحب کے لئے کوئی امر پریشانی کا باعث نہیں ہوتا تھا۔کابینہ کے فیصلوں کی اطلاع انہیں ملتی رہتی تھی اور امور حکومت میں ی سی سی کی دخل اندازی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔شومئی قسمت سے نواب زادہ صاحب کی اند ناک رات ی اوران کورین جان اور وزیر اعظم کے درمیان قامان گور با ما غلام محمد اب یاد تو جسمانی عوارض ر صحت کی مزوری کے عالم طبع تھے اور نے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین صاب کی طبی معانیت پسند تھی۔طبائع کے ال کی وجہ سے یہی مشکل تھی، آہستہ آہستہ اعتمادی کم ہوناشروع ہوگیا۔وزیراعظم صار نے مشاورتی کا فرانس طلب کرنے کے متعلق گورنر جنرل صاحب ہے۔مشورہ کی نہ ان کے ساتھ کرہی کیا کہ کانفرنس طلب کی جارہی ہے۔جب اعظ گرنہ جنرل صاحب کوعلم ہوا کہ گوری ماسیان کی کانفرنس بلائی جارہی ہے اور انہیں اطلاع تک نہیں تو انہوںنے دو نظم صاحب سے دریافت کیا اور وزیر اعظم صاحب نے اس امری صدای رامی ی ی یک گور از این مزایای که گور زمانیان کانفرنس کی صدارت گور نہ منزل کو رہنی چاہئے۔وزیراعظم صاب نے کہاہم توگور صاحبان کو اطلاع دے چکے ہیںکہ ہم ملک کے حالات پر ان سے مشورہ کرنا چاہتے ہیں۔جب ہم نے دعوت دی ہے تو لازم ہے کہ کانفرنس کی صدارت تھی ہم کریں۔اس پر گورنر جنرل نے فرماب بہت اچھا لیکن کا نفرنس کے لئے ویزہ بال ہاؤس ہی موزوں ہے۔آپ بینک کا فرونش کی صدارت فرمائیں ہم بھی موجود رہیں گے تاکہ ہمیں بھی ملک کے حالات سے اور کا نفرنس کے مشورے سے آگاہی ہو۔میرابیان کہ انہی ایام میں گرین بیل صاح کے وہیں میں کا منہ میں تبدیلی کامنصوبہ معین صورت اختیار کرنے لگا نا ممکن ہے وزیر اعظم صاحب کے اس اقدام نے کہ انہوں نے گورنہ صاحبان کی کانفرنس طلب فرمائی اور گورنر جنرل صاحب ہے اس کا ذکر تک نہ کیا گورنر جنرل صاحب کے عزم کو پختہ کر دیا ہو۔میری طبیعت پر اس وقت یہ تاثر تھا کہ گور منزل صاحب اس بات سے آزردہ ضرور ہوے کہ کانفرنس طلب کی گئی اور ان سے ذکر تک نہ کیاگیا۔کانفرنس تین دن جاری رہی۔مختلف آرا عرفا اظہار ہوا۔کمانڈر انچیف صاحب نے بڑی وضاحت سے فرمایا کہ حکومت کا رعب اور احترام بہت کم ہو گیا ہے حکومت کی مضبوطی کے لئے مناسب اقدام ہونا چاہئیے۔خان قربان علی ای اس نے فرمایا گول مول یا تیں ہو رہی ہیں صاف بات یہ