تحدیث نعمت — Page 581
۵۸۱۔۔حضرت مولانا جلال الدین رومی میں نے ذکر کیا کہ حضرت مولانا جلال الدین رومی کے مزار پر حاضر موکر کے مزار پر حاضری اور دعائد دعاء کرنے کی خواہش ہے۔فرمایا سب انتظام ہو جائے گا۔موٹر سے آنے جانے میں زیادہ وقت لگے کا بہتر سے ہوائی جہاز میں جاؤ۔صبح جا کر سہ پہر کو واپس آسکتے ہو۔چنانچہ ہوائی جہانہ کا انتظام کر دیا گیا۔ہم قونیہ حاضر ہوے۔مولانا کے مزار پر نا کہ کہ کر اور الر کے ایک دیر رسید آرزو پوری کی فالحمدللہ۔قونیہ کے میر صاحب نے ازراہ شفقت دوپہر کے کھانے کی دعوت کی اور ایک قلمی نسخہ فیه ما فیه کا عنایت فرمایا - نخجزاه الله - انقرہ سے ہم بروت گئے ، بیروت سے دمشق اور وہاں سے کیا چی دالیس ہوئے۔بیروت اور مشق میں بھی وزرائے خارجہ نے وزرائے عظام کی سالانہ ملاقات و پسندیدگی کی نگہ سے دیکھا لیکن انقرة بیروت، دمشق تینوں جگہ ل دیا تھا جس سے رش رہتا تھا کہ اس تو ہی پر شروع ہو جائے توکوئی ہرج نہیں لیکن یہ بھی نہیں کہ سکتے کہ اس سے کوئی فائدہ مرتب ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔پاکستان سفراء کے ذریعے معلوم ہوا کہ سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے اس تجویز کو سرا گیا ہے۔عراق کی حکومت اسے ایک مفید اقدام خیال کرتی ہے میر کی حکومت کی رائے ہے کہ اگر ہندوستان کوشامل کیا جائے تو تویز کے مفید ہو جانے کا امکان ہے۔میں نے اپنے تاثرات کی رپورٹ وزیراعظم ا امام الدین صاحب کی خدمت این پی یر ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا و و وی را در این رایا اور یونی اس سے آگے نہ ملی۔اور تجھے املی کے اجلاس کے دوران میں حکومت مصر در حکومت عراق کی طرف سے مجھے دعوت دیگئی کہ نواک سے پاکستان واپس جاتے ہوئے میں قاہرہ اور بغداد ٹھہروں میں نے دونوں دعوتیں شکریے کے ساتھ قبول کیں۔قاہرہ جانے کا تومجھے متعدد بار پلے بھی اتفاق ہو چکا تھا لیکن بغداد جانے کا موقعہ ابھی تک نہیں ہوا تھا۔السید فاضل حمالی صحاب وزیر خارجہ عراق کے ساتھ میرے مخلصانہ مراسم تھے اوروہ پہلے بھی مجھے بغداد آنے کی دعوت دے چکے تھے۔ان کا اصرار ا در دوران ها را کم ازکم چار پانچ دن بعد میں قیام کردین میں درد سے زیادہ کا وعدہ ن کر سکا۔قاہرہ میں قیام جنرل نجیب کی نجابت تار کے طور پر ہوائی جانے اترنے سے قبل ہی پڑتال پر میشہ کچھ وقت صرف ہوتا ہے۔جب ہوائی جہاز بھر گیا توہم ڈاکٹر اب کی آمد کے منت میٹھے تھے۔اتنے میں سافرو میں کچھ پھیل ہوئی اور میں نے دیکھا کہ ایک با وقار شخص فوجی وردی میں ملبوس مختصرسی بید کی چھڑی دائیں بغل کے نیچے دبائے پہلے آرہے ہیں۔ان کے پیچھے محمود فوزی صاحب وزیر خارجہ کو بڑے ادب سے آتے دیکھ کر میں کھو گی کہ عالی منزلت بنزل نجیب صدر العقابی کونسل نے بنفس نفیس پیشوائی کے لئے آنےکی زحمت گوارارا فرمائی ہے فجزاہ اللہ میرے قیام قاہرہ کے دوران میں ہر تقریب پر جنرل نجیب مجھے خود اپنے ہمراہ لے جاتے اور اپنے ساتھ ہی واپس لاتے۔میں اسی تکلیف