تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 40 of 736

تحدیث نعمت — Page 40

١٩٣٩ پینتیس سال کے لگ بھگ تھی۔اس اندازے کے مطابق ۵۵ - ، ۵ سال کی عمر میں ان پر فالج کا حملہ ہوا جو کچھ اثر ان کے چہرے اور ایک آنکھ پر چھوڑ گیا۔اس وجہ سے انہوں نے لندن کی رہائش نزیک کر دی اور کہ رنگ میں ساحل سمندر کے بالکل قریب ایک مختصر سا فلیٹ اپنی ضروریات کے مطابق کرائے پہرے لیا اور وہاں رہائش اختیار کر لی۔کچھ عرصہ بعد ان کی بڑی بہن میں لائینزا پارسنز نے بھی وہیں ان کے قریب ہی ایک کمر و لے لیا۔میں اپنی پارسنز نے کئی سال قبل ایسٹ لندن ہاسپٹل کو چھوڑ کر بائی گیٹ کے علاقہ میں اپنا نرسنگ ہوم چھلے پارک نرسنگ ہوم کے نام سے جاندی کہ لیا تھا۔جسے وہ کامیابی کے ساتھ چلارہی تنیس مستربین برج کے دور دنگ منتقل ہو جانے کے بعد جب میں لندن جانا تو انہیں در دنگ جا کر ضرور ملتا جب مجھے کار میسر ہوتی میں کار میں جانا اور دونوں بہنوں کو گھنٹے دو گھنٹے کیلئے کا میں سیر کے لئے لے جاتا ہو ان کے لئے بہت فرحت کا موجب ہوتا۔اگر کار میسر نہ ہوتی تو میں ریل میں جانا اور گھنٹہ دو گھنٹ ٹھر کہ چلا آتا مسٹر بین برج مطعم میں کھانے کے لئے جانا پسند نہیں کرتی تھیں اور میں انہیں اس تکلیف میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا کہ میرے لئے کھانا تیار کرنے کی زحمت اٹھا اسلئے میں عموماً دوپہر کے کھانے کے بعد لندن سے روانہ ہوتا اور شام کے کھانے تک واپس پہنچ جاتا۔لیکن کبھی ان کا اصرار ہوتا کہ کھانا میرے ساتھ کھاؤ تو میں ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے دوپہر کے کھانے کے وقت پہنچ جاتا ء کے نومبر من جب میں ڈومینینز کے وزراء کی کا نفرنس میں ہندوستانی نمائندے کی حیثیت سے لندن گیا تو عزیز انور احمد بطور سکریٹری میرے ساتھ تھے۔میں انہیں ور دنگ لے گیا۔مستر بین بمدح کی طرف سے دوپہر کے کھانے کی عورت تھی موسم کے لحاظ سے بھی دن چھوٹا ہونے کی وجہ سے لندن سے سوہرے روانگی مناسب تھی۔گو میری طبیعت میں تامل بھی تھا کہ ہم دو شخصی مسرزمین بنج کے مہمان ہوں۔کیونکہ راشن بندی کی وجہ سے ان پر تنگی ہونا لانہم تھا۔بہر حال ان کی خواہش کا احترام فرض تھا۔کھانے کے دوران میں نے عزیز انور احمد سے کہا آپ کو اپنی ٹرینگ کیلئے ایک سال لندن ٹھہرنا ہوگا۔جنگ کانہ مانہ ہے ادھر ادھر آنا جانا آسان نہ ہوگا ایک طریق یہ ہو سکتا ہے کہ اقوالہ یاکسی اور چھٹی کے دن جب چاہو یہاں آجاؤ۔دوپہر کے کھانے کیلئے کچھ ساتھ نے آیا کرد اور یہاں مسربین بزن کے ساتھ بیٹھ کر کھا لیا کرو۔چائے یا کافی یہ تیار کر دیا کریں گی۔جب میں ذرا کمرے سے باہر گیا تو سر مین بینچ نے عزیز انور سے کہا۔تم حجب جی چاہے آجایا کر نامیں کہیں باہر تو جاتی نہیں لیکن ساتھ کچھ لانے کی ضرورت نہیں میں تمہارے پینے کا خود انتظام کیا کروں گی۔یہ ہماری آخر می طلاقات تھی۔ان کی صحت اس وقت بھی کمز در سو رہی تھی بعد میں اپریشن کے لئے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔اپریشن کے چند دن بعد ہسپتال سے ہی بستر میں بیٹھے بیٹھے سنیل سے مجھے خط لکھا، پریشن کا I