تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 560 of 736

تحدیث نعمت — Page 560

۵۶۰ ور اپنے وزیر خاریہ کا ایک خصوصی پیغام میرے نام لائے۔کونٹ سفورزا نے کہلا بھیجا ہمیں قرار داد کے رد ہو جانے پر کوئی ریے نہیں معرب ممال کی دوستی اور خوشنودی کےخواہی ہیں اور املی کے این اے سالانہ اجلاس میں لیا کی فوری آزادی کی تائید کرنے کے لئے تیار ہیں۔چنانچہ اس کے سالانہ اجلاس املی میں ہی قرار داد منظور ہوگئی کیکم جنوری شار سے بیا آزاد ہوگا۔اس قرارداد کے نفاذ کیلئے ایک کمیٹی مقر کی گئی جس کے اراکین میں مرادر پاکستان دونوں شامل تھے۔چنانچہ قرار داد کے مطابق یکم جنوری کشار کو پیا کی آزاد حکومت قائم ہوگئی۔فالحمد لله ایریٹریا کا ابی سینیا سے الحاق اب ایریٹریا اور اطالوی سومالی لینڈ کا سوال در پیش تھا۔ایریٹریا کی اہے عامه دریافت کرنے کے لئے پانچ اراکین کی ایک کمیٹی مقرر کی گئی جب میں پاکستان بھی شامل تھا۔اس کمیٹی کے تین اراکین نے رپورٹ کی کرایہ بیڑیا کا اب سینیا کے ساتھ الحاق کیا جائے۔دوارہ کین نے جن میں سے ایک پاکستان تھار پورٹ یک اریٹیریا کو آزاد ہونا چاہیے اوراگر یہ ہو تو اریٹریا کے مغربی حصے کا الحاق سوڈان کے ساتھ ہونا چاہیئے۔یونکہ ایٹا کے مغربی حصے کے قابل سوڈان کے معہ علاقے کے قابل کا حصہ ہیں اس کی ٹیمیں پاکسان کی اندکی میابی ضیاء الدین صاحب نے کی اور اپنے فرائض کو نہایت متعدی اور قابلیت کے ساتھ ادا کیا۔فجزاہ اللہ۔جب یہ مسئلہ اسمبلی میں زیر بحث آیا تو پاکستان نے اپر پڑیا کے الیسینیا کے ساتھ الحاق کے خلاف پر زور احتجاج کیا۔ایریا کی آبادی کی ایک بڑی کثرت نے اس الحاق کی مخالفت کی تھی۔ایریٹر یا علی علاقہ ہے اور اس کی آبادی کی کثرت مسلمان ہے۔پڑھالکھی طبقہ عربی بولتا ہے۔الحاق میں ابی سینیا کا تو سیاسی فائدہ ہی تھالیکن ایر بریا کا الحاق میں کوئی فائدہ نہ تھا۔املی میں کثرت الحاق کی تائید میں تھی اور ان کی طرف سے ایک بڑی دلیل یہ پیش کی جاتی تھی کہ امی سینا کو اٹلی کے ہاتھوں بہت نقصان پہنچاہے اس کی چھت مانی ہونی چاہیے ، ہماری نگر میں یہ لیل معلولیت سے بالکل خالی تھی۔کے لایا اور پھر ساری با الی الحاق کی تجویہ کو دو تہائی آراد کی باید حاصل ہوئی اور تجویز منظور ہوگئی میں نے ر در رفتار کیا کہ الحاق یک بستروں کی ملاہے تو ایریٹریا کے گلے میں ڈالی جارہی ہے اور اس کا ایک ی نتیجہ ہوگا کہ ایک دن ایریٹریا الی سینیا میں جذب کر لیا جائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔کا -+ الی سینا کی کثرت پہاڑی آبادی کی ہے جو A MAARI نسل کی ہے۔حالی میدانی علاقوں کی آبادی مسلمان ہے۔امیر بیڑیا کو الی سینیا میں شامل کرنے سے مسلمان عنصر مں اضافہ ہو گیا ہے۔دوسری عالمی جنگ کے بعد اتحاد یوں لئے بطور معاوضہ کے سومالیہ کا ایک صوبہ 4ADEN بھی اب سینیامیں شامل کر دیا تھا اس سے بھی سلمان عنصری کچھ اضافہ ہوا مسلمانوں کا کہناہے کہ اب ایسینیا کی آبادی میں ان کی کثر ہے لیکن الیا سینی می مردم شماری کے قابل اعتماد اعداد و شمار میر نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ حکومت کے اختیارات بہت کچھ A MHA RIC سرداروں کے ہاتھ میں ہیں۔اب سینیا کے شہنشاہ اگر چہ ای بیدار مغز اور ترقی پسند فرمانرو ہیں لیکن اندرونی معاملت میں ان کے اختیار