تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 551 of 736

تحدیث نعمت — Page 551

حصے میں سنہری آب پاشی کے ذرائع کو نسبتا زیادہ فروغ دیا جا چکا ہے اسلئے مشرقی پنجاب کو اس نسبتی زیادتی کے بدلے میں معاوضہ ملنا چاہئے اور اس معاوضے کی تشخیص میں نہ صرف ہنوں کے صرفے اور انکی موجودہ قیمت کو مد نظر رکھا جائے بلکہ اس کے علاوہ اسبات کو بھی مد نظر رکھا جائے کہ ہنروں کے اجراء کے نتیجے میں مغربی پنجاب میں کاری افتادہ رقبہ جات کی قیمت میں جنس بہروں کی آب پاشی سے زیر کاشت لایا جا سکتا ہے بہت اضافہ ہو چکا ہے۔اس کے بالے میں بھی مشرقی پنجاب معاوضے کا متھی ہے۔اس دعا کے دونوں حصول کے جواز کواس ٹائی ٹرمینل نے جو پاکستان اور ہندوستان کے مابین اثاثوں کی تقسیم کے لئے مقرر کیا گیا تھا اور جس کے مدرسہ میٹرک سنتر سابق تعیف جسٹس بند تھے تسلیم کرلیا۔اور اس کے مطابق معاوضہ کی رقم تشخیص کی گئی۔ثالثی عدالت نے اپنا کام ماری شده و وخت کیا در یکم اپریل کو مینی دوست ہی دن مشرقی پنجاب کی حکومت نے پاکستان میں جانے والی تمام مہروں کا پانی جو ہندوستان سے گذر کر پاکستان میں آنا تا بند کر دیا ! حالانکہ اس ٹریبونل کے صدر لارڈ سپنیز بیان کے بموجب رومیوں کو یقین دلایاگیا تھاکہ پانی بند ہیں کیا جاے گا اور جو معاوضہ ٹریبونل نے تشخیص کیا ہ اس یقین ربانی کی بنا پر تھا۔فروری شاء میں انہوں نے پنی ایک تقریر میں ہندوستان کی طرف سے اس یقین دہانی کی خلاف ورزی پر افسوس کا اظہارہ بھی کیا ہے۔نہروں کے پانی کا قضیہ ایک خاص قانونی قضیہ تھا۔پاکستان نے تجویز کیا کہ اس قضیے کا فیصلہ بین الاقوامی عدالت سے کرایا جائے لیکن مہند وستان کی حکومت اس پر رضامند نہ ہوئی۔1980 قائد اعظم کی وفات پاکستان کے قیام پر بھی ایسا بھی نہیں گاتاکہ قائداعظم کی صحت تشویشناک مصور اختیار کرگئی۔قیام پاکستان سے پہلے بھی ان کی صحت دن بدن کمزور ہوتی جارہی تھی لیکن انکی اولوالعزمی ان کی صحت کی کمزوری پر غالب رہی۔شام کے وسط میں دو ایک برمین نے انہیں توجہ دلانے کی جرات بھی کی اور مناسب احتیاط رو در ایالیکن انہوں نے ہر بار یہ کہ بات ٹال د کہ یہ تو ان کی صحت کا معمول ہے۔چند دن کمزوری کے آتے ہیں گر جاتے ہیں کوئی پریشانی کی بات نہیں محترمہ فاطمہ جناح سےبھی میں نے قائد اعظم کی صحت کے متعلق فکر کا اظہار کیا۔انہوں نے فرمایا میں نو متفکر ہوں لیکن وہ سی کی سنتے نہیں اپنی ہی کرتے ہیں۔آخر کار طبعیت زیادہ خراب ہوئی تو زیارت کوئی تشریف لے گئے۔وزیر اعظم صاحب نے رفقاء کوقتا فوقتا قائداعظم کی صحت کے متعلق اطلاع بہم پہنچاتے تھے میںسے اگر یہ پورا اطمینان نہیں ہوتا تھا لکین تشویش میں اضافہ بھی نہیں ہوتا تھا۔ایک روز مغرب کے وقت پیغام ملاکہ وزیر اعظم احب نے ورنہ ان کی رہائش گاہ پر یاد فرما ہے مجھے کچھ حیت ہوئی کہ قائداعظم کی تشریف آوری کی تو کوئی اطلاع نہیں پر ان کی فرود گاہ پر کیوں طلبی ہوئی ہے۔وہاں پہنچنے پر ایک اے ڈی سی مجھے باغیچے کی طرف لے گئے۔وہاں وزیرا عظم صاحب اکیلے پریشانی کے عالم میں ٹہل رہے تھے۔فرایا