تحدیث نعمت — Page 540
۵۴ معلوم ہو گی ذریعہ وزیر اعظم اٹلی پر زور ڈال رہے تھے کہ پہلی مجوزہ قرار داد کے ان حصوں کو ترک کیا جائے جو ہندوستان کے مفاد کے خلاف ہیں۔وزیر اعظم اٹیلی ہو شروع ہی سے تحریک پاکستان کے حق میں نہ تھے اور جو قائد اعظم سے بھی بغض رکھتے تھے نہایت آسانی سے ادھر مائل ہو گئے اور اپی پہلی ہدایات کے خلاف اور اپنے رفیق کار وزیر امور کا من ولیتھ کے مشورے کے خلاف پہلا موقف بدل لیا جس کے تھے میں نہ رن پہلی مجوزہ قرار داد کی بجائے ایک نسبتا گرور قرار دا و مجلس ان میں پیش کی گئی کہ مجلس امن کی ساری فضاسی بدل گئی۔اس طرح پنڈت جواہر لال نہرو صاحب کو ہوگیا کہ محلی امن کی مساعی کو ریشہ دوانی اور حکمت عملی سے بے اللہ بنایا جاسکتا ہے۔جس طرح فلسطین کا قضیہ صدر ٹرومین کی بیود نوانہ پالیسی کے نتیجے میں مشرق وسطی کے لئے خصوصا اور اسلامی دنیا کے لئے عموماً ان گنت مشکلات اور مصائب کا موجب بنا ہوا ہے اسی طرح کشمیر کے قضیہ کی ذمہ داری جس کے نتیجہ میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ تک نوبت پہنچی اور جو تا حال براعظم پاک وہند کے لئے خصوصا اور سارے مشرق کے ے عموماً بہت سے خطرات کا بیچی اپنے اندر کئے ہوئے ہے مونٹ بیٹین اور بعض اور شخصیتوں کے علاوہ ان تنظیم اٹیلی کے سر ہے انسانی تاریخ میں ان دو پستہ قد اور بظاہر بے اثر شخصیتوں (ٹر د مین اور ایلی ) کا شمار ان اشخاص میں ہو گا سین کی انصاف کشی نے امن عالم کو تباہ کر دیا۔جب نئی قرار داد مجلس امن میں پیش ہوئی تو چودھری محمد علی صاحب نے اور میں نے پھر دن رات الد کین مجلس امن کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ شروع کیا اور اس کوشش میں لگ گئے کہ جہاں تک ہوسکے نئی قرار داد کو مضبوط کیا جائے۔چینی صدر صاحب کے ساتھ متواتر مشورے ہوئے۔بعض معمولی سی ترامیم اور وضاحتیں انہوں نے تسلیم بھی کیں لیکن قرار داد کا ڈھانچہ ہی رہا جو ز یر اعظ ایلی تو یہ کہ انکے تھے آخری قرار داد پر مل میں کولین مندوب کی صدارت میں منظور ہوئی۔اسی قرار داد میں یہ تو نی نی کرمانی اراکین کا ایک کمشن مقر کیا جائے تو اعظم پاکستان و ہند جا کہ قرار داد کی مختلف تجاویہ کو فریقین کے مشورے اور انکی رضامندی کے ساتھ عملی جامہ پہنائے اور کشمیر کے باشندگان کی آندا دانہ رائے شماری کا اہتمام کرے۔کولمین صدر صاحب کی بخونید سپر کمشن کے اراکین کی تعداد تین سے بڑھا کہ پانچ کردی گئی۔طے پایا کہ اس مشن میں دو رکن مجلس امن نامرد کرے اور وہ دونوں ایک تیرا رد کن نامزد کریں ان کے علاوہ ایک رکن پاکستان اور ایک سند دستان نامرد کیے۔مجلس امن نے بلجیم اور کولمبیا و نامزد کیا اور ان دونوں نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کو نامزد کیا پاکستان نے ارجنٹائن کو ہندوستان نے چیکوسلواکیہ کو نامزدکیا کمیشن کا اصطلاحی نام :- VNITED NATIONS (UNCIP) COMMISSION ON INDIA AND PAKISTAN