تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 538 of 736

تحدیث نعمت — Page 538

مرسم الله دتی اور لندن کے درمیان زیر بحث ہے۔میری تجویز ہے کہ ہم لندن چلی اور وہاں کچھ کھوج لگائیں کہ پس پردہ کیا پخت و پزہ ہو رہی ہے چنانچہ ہم دونوں لندن پہنچے اور وزیر خارجہ سٹر ارنسٹ ہیون اور وزیر اعظم مسٹرائیکی سے ملاقات کی درخواست کی وزیر خارجہ نے گیارہ بجے قبل دوپہر کا وقت دیا اور فیر اعظم نے اسی دن تین بجے بعد دو پر کا۔وزیر خارجہ بہت صاف گوا ن تھے اور میرے دل میں ان کا بہت احترام متقلد انہوں نے میری بات تو یہ سے بنی معلوم ہوتا تھا کہ وہ صورت حالات سے واقف ہیں چنانچہ انہوں نے فرمایا مجھے تمہارے ساتھ ہمدردی بھی ہے اور الفان ھی لیکن کے وزیراغی بھی لیکن ہندوستان کے معاملات میں وزیر اعظم پر کریس کا بڑا اثر ہے وہ اس معالم میں وزیر اعظم کے پیچھے مڑا ہوا ہے۔ان کے الفاظ تھے : HE HAS BEEN AT HIM" میں نے سنا ہے تم آج وزیر اعظم سے مل رہے ہو۔میں اتناہی کہ سکتا ہوں کہ خدا کرے تمہاری قسمت نیک ہو۔دوپہر کے کھانے پر میں نے یہ کیفیت چودھری صاحب کی خدمت میں بیان کردی۔ہم دونوں کا ہی اندازہ ہو کر اور حالات بگڑ گئی ہے۔میں تین بجے وزیراعظم کی خدمت میں حاضر ہوا۔وہ صورت ہی سے پشیمان نظر آتے تھے۔میں یوں تو انہیں میں سال پہلے سے جانتا تھا۔جب وہ سائمن کمشن کے رکن تھے لیکن ہمارے درمیان کسی وقت بھی گہرے مراسم نہیں تھے۔مجھے یہ بھی یاد تھا کہ انہوں نے آزادی ہند کے قانون کا مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کرتے وقت قائد اعظم کے متعلق اپنی تقریر میں شکوہ کیا تھاکہ انہوں نے مار ڈومونٹ بیٹن کو ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں اور نہ منزل بنانے کی تجویز منظور نہ کی لارڈ ماؤنٹ بیٹن جو وزیراعظم کے منظور نظر تھے اب ہندوستان کے گورنر جنرل تھے۔اور کرسٹینفورڈ کر پیس ہندوستان کی حمایت میں تھے۔دوسری طرف دان و نوی حکومت بر طانیہ میں پاکستان کا مایتی کوئی نہ تا مقابلہ بالکل غیر توازن تھا میں نے قریب پون گھنٹڈ ان کی خدمت میں صرف کیا۔اس عرصے میں انہوں نے ایک بار بھی مجھ سے نظر ملا کر بات نہ کی کبھی ادھر جھانکتے کبھی ادھر ہی کتنے فکریہ کرو۔ہندوستانی وفد جلد نیو یارک پہنچ جائے گا۔میں اس کوشش میں تھا کہ انہیں آمادہ کروں کہ ہندوستان کے ساتھ اپنا رسوخ استعمال کر کے انہیں ایفائے عہدہ پر مائل کریں۔اور اس میلا کا ثبوت مجلس امن کے سامنے پیش شده قرار داد کوتسلیم کرنے سے مہیا کریں اور وہ اس طرف آنے کا نام نہ لیتے تھے۔کہنے لگے تمہیں اس قرار داد پر کیوں اصرار ہے اصل غرض اور طریق سے بھی حاصل ہوسکتی ہے۔مشداً گر یوں کر دیا جائے بالوں کردیا جائے یا یوں کر دیا جائے میں نکی ہرایک یوں پر تنقید کرتا گیالیکن وہ راہ پہ آئے میں بے نیل مرام لوٹ آیا اور اپنے رفیق کار سے کیفیت بیان کردی اور نواب زادہ صاحب کی خدمت میں بھی روٹ بھیج دی۔چودھری محمدعلی صاحب اور میں نیویارک واپس ہوئے۔کچھ دن بعد سند دوستانی وند کی واپسی پر مالی امن کے اعلاس پھر شروع ہوئے۔لیکن اب سماں ملا ہوا تھا جیسے میں ذکر کر چکا ہوں دوست اس مرحلے پر غیر ماند ا کہ یہ کامن ویلی کا آپس کا معاملہ ہے ہم اس مں دخل نہیں دیتے۔امریکہ اور برطانیہ پیش پیش تھے۔مجلس کے