تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 537 of 736

تحدیث نعمت — Page 537

۵۳۷ کر لیں گے سینیٹ نے کہا ہم نے ان پر واضح کر دیا ہے کہ مجلس امن اس قضیے میں اپنے فرائض کو اس زنگ میں نہیں یکھتی مجلس ان کا فرض ہے کہ وہ اس تمام قیے کی تہ کو پہنے اور معلوم ہے کہ آزاد کشمیرکے لوگوں کو ہتھیاربند ہونے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ واضیہ ہے کہ جب انہوں نے حتی خود اختیاری کو زائل ہوتے دیکھا تو وہ ہتھیارہ بعد ہونے پر مجبور ہو گئے، اب لڑائی بند کرنے کا ایک ہی طریق ہے کہ ان لوگوں کا اطمینان کر دیا جائے کہ جس معنی کے حاصل کرنے کے لئے انہوں نے لڑائی شروع کی تھی وہ حق ب انہیں بغیر لڑائی کے حاصل ہو جائے گا۔اس کے بغیر جنگ سندی کا اور کوئی طریق نہیں۔آنرز تبادلہ خیالات کا سلسلہ ختم ہونے پر مجوزہ قرار داد کے متعلق رائے شماری کا وقت آیا۔اس وقت تک تنے اراکین مجلس نے قرار داد کے متعلق اظہار خیال کیا تھا سب نے قرار داد کی تائید کی تھی اور ہی اندازہ تھا کہ قرارداد اگر بالاتفاق نہیں تو گیارہ میں سے روس آراء کی تائید کے ساتھ منظور ہو جائے گی۔روس کے متعلق خیال کیا جاتا تھا کہ شاند غیر جانبدار رہے۔عین اس مرحلے پر سر و پال سوامی ائنگر نے بولنے کی اجازت چاہی۔اجازت ملنے پر انہوں نے فرمایا میں اپنی حکومت کی طرف سے ہدایت موصول ہوئ ہے کہ ہم مزید ہدایت کے لئے دلی واپس جائیں اس لئے ہم فیت کی اجازت چاہے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ تاری واپسی کا اجلاس منوی کی بات این مجلسی اس درخواست پر حیران بھی ہوئے اور آزردہ بھی۔یہ تو سب نے سمجھ لیاکہ ہندوستان کی نیت بخیر نہیں۔اکثر نے تو اناسی کہنے پر اکتفا کیا کہ کشمیر میں جنگ جاری ہے اور جانیں تلف ہو رہی ہیں ضروری ہے کہ اس صورت حالات کا جلد کچھ عادا کیا جائے اور اس امید کا اظہار کیا کہ ہندوستانی دوند بہت جلد واپس آجائے گا تا کہ مجلس اپنی کاروائی کو بغیر غر ضروری توقف کے باری رکھ سکے۔لیکن بعض اراکین نے اپنی آزردگی کا اظہار بھی کیا۔مثلاً کولمبیا کے مندوب نے کہا۔صاحب صدر آپ کو اور اراکین مجلس کو یاد ہو گا کہ بھی چند دن ہوئے ہندوستان کے فاضل نمائندے نے شکوے کے طور پر کہا تھا کہ کشمیر تقل رہا ہے اور مجلس امن ستارہ بیجار ہی ہے۔کیا میں ہندوستان کے فاضل نمائندے سے دریافت کرنے کی قرات کر سکتا ہوں کہ ا کیا کشمیر کو جلانے والی آگ ٹھنڈی ہو گئی ہے ؟ اور اگر نہیں تو اب کون ستار سجا رہا ہے ؟ سر گوپال سوامی آئینیر نے اس قسم کی تنقید سے زچ ہو کر کہا مجھےیہ دیکھ کر ہری ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے ایک معز رکن کی ایک جانم و خواست پراس قسم کے تکلیف دہ خیالات کا اظہار کیا جارہا ہے۔مجلس کے اراکین کے ان احات کے باوجود مجلس کے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں تھا کہ اجلاس ملتوی کیا جائے۔التواء کی مدت کچھ طول پکڑنے لگی تو چودھری محمدعلی صاب نے مجھے کہ ہمارا ہندوستانی وفد کے انتظار میں نیویارک بیٹھے رہنا بے معنی ہے لیکن اگر ہم پاکستان لوٹ جائیں تو اس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ اما منتقل ہو جائے گا اور ممکن ہے قضیہ کشمیر کے متعلق مجلس کے اراکین کی دلچسپی بھی ٹھنڈی پڑ جائے۔میر اندازہ ہے کہ اس وقت کشمیر کا مسئلہ