تحدیث نعمت — Page 536
۵۳۶ ریاست کی رعایا کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔مجلس امن پر صرف یہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ رعایا کی مرضی معلم۔کرنے کا مناسب طریق تجویز کردے اور اس پر فریقین کا اتفاق ہو جائے۔اس صورت میں جنگ بندی آسان ہو جائے گ اور قبائلیوں اور رضاکاروں کو ریاست سے اس جانے پر آمادہ کیا جائے گا۔نیزجب آزادکشم عنہ کو اطمیان ہو جائے گا کہ انہیں پورا حق خود اختیاری حاصل ہو گیا ہے تو وہ بھی لڑنا بند کردیں گے مجلس امن میں بحث کے دوران میں اور بعد میں صدر صاحبان کے ساتھ گفتگو کے دوران میں جو وقت فارغ ہوتا اس میں چودھری محمد علی صاحب اور میں باری باری تمام اراکین مجلس سے علیحدہ علیحدہ مل کراپنا موقف پر معاملے میں واضح کردیتے تھے اور وشکل انہیں نظر آتی اس کا حمل تباد یتے تھے۔اس غرض سے ہمیں کم سے کم تین چار بار پر ایک رکن مجلس سے ملنے کا موقعہ ہوا۔روس کا موقف اس وقت غیر جانبدارانہ معلوم ہوتا تھا۔اگر چہ روسی نمائندے پوری دلچسپی لیتے تھے لیکن وہ کی رائے کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ان دنوں اقوام متحدہ میں برطانوی مائندہ تو سایز بندر کی دگن تھے لیکن اس قضیے کی اہمیت کے پیش نظر برطانیہ کے وزیرامور کامن ویلتھ راٹ اسرئیل سٹر فلپ فویل پیکر خود لندن سے برطانیہ کی نمائندگی کے لئے آئے ہوئے تھے۔امریکی نمائندہ سینیٹر وارن آسٹن تھے۔یہ دونوں اصحاب پوری توجہ اور انہماک سے کوشاں تھے کہ مجلس امن کوئی ایک حل تجویز کرے جس کے نتیجہ میں جلد اس قضیے کا پرامن تصفیہ کن ہو جائے۔ہم جانتے تھے کہ سلامتی کونسل کے صدر صاحبان ہمارے ساتھا اور ہندوستانی وفد کے ساتھ گفتگو کے علاوہ اراکین مجلس امن کے ساتھ بھی متواتر مشورہ کر رہے ہیں۔اراکین مجلس کے ساتھ جو بات چیت ہوتی تھی اس سے کچھ ترشح ہو تا رہا تار کر مجلس کا رحجان کی طرف ہے اور یہ بھی پتہ چل جاتا تاکہ ہندوستانی و دو کس بات پر زور دے رہا ہے۔ر مجلس نے باہمی مشورے کے بعد ای قرار داد ا ا ا ا ا ا ا ا ا م م م کی طرف سے یہ قرارداد مجلس میں پیش کی گی اور اس پر اظہار رائے ہونے لگا۔اس قرار داد کے دے جو کچھ ہم چاہتے تھے وہ سب تعمیر نہیں آتاتھا لیکن اصولاً ہمارا موقف تسلیم ہو جاتا تھا۔اسلئے لبعض تفاصیل کی وضاحت چاہنے اور بعض پر تنقید کرنے کے ساتھ ہم نے اسے بول کرنے پر آمادگی ظہر کی لیکن ہندوستانی وفد نے قرارداد کی مخالفت کی اور اس کی مرکزی تجویز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔وہ تجویز یہ تھی ک رائے شماری کو آزاد در غیر جانبدار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ریاست کی حکومت کی تشکیل بھی غیر جانبداری کے اصول پر ہو میٹر نوئل بیک قرار داد کی بڑے زور سے حمایت کر رہے تھے اور اس کوشش میں بھی تھے کہ ہندوستانی وفد کو اوران کی وساطت سے پنڈت جواہر لال صاحب کو قرارداد کو قبول کر لینے پر آمادہ کر لیں لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ایک ملاقات میں امریکہ کے نمائندہ سینیٹر وارن آسٹن نے بتا یا کہ ہندستانی وند اس بات پر زور دے رہا ہے کہ مجلس امن صرف قبائلیوں اور رضا کاروں کو ریاست سے واپس کرانے اور آزاد کشمیر کے لوگوں کے لڑائی سے ہاتھ روکنے کا انتظام کر دے۔باقی سب کچھ ان پر چھوڑ دیا جائے وہ سب انتظام