تحدیث نعمت — Page 535
۵۳۵ مجلس ان کے ایک اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے مٹر کو نامینی نے فرمایا میرے وزیر اعظم نے ش کے متعلق کبھی رائے شماری (PLEBISCITE) کا لفظ استعمال نہیں کیا۔میں نے جواب میں پنڈت ہر جی کے بیانات سے دس مثالیں پیش کیں جن میں پنڈت جی نے کشمیری ( PLE DIS CITE ) کے ذریعے رائے عام معلوم کرنے کا اعلان کا ہوا تھا اور کہا کہ او بھی بہت سی مثالیں ہیں لیکن جومثالیں میں نے بیان کی ہیں وہ اراکین مجلس بلکہ خود ہندوستان کے محترم نمائندے کے اطمینان کے لئے کافی ہوں گی کہ ہندوستان کے قابل احترام وزیر اعظم نے تنازعہ کشمیر کے تعلق یہ لفظ بڑی کثرت سے استعمال فرمایا ہے۔جب سرکرشنا مین کی باری آئی تو انہوں نے اس امر کے متعلق صرف آنا فرمایا میں اس اس کا اعادہ کرتا ہوں کہ میرے وزیر اعظم نے کمر کے قضیے کے سلسلے میں کبھی لفظ P LEDICITE استعمال نہیں کیا۔ایسی ڈھٹائی کا کیا علاج ؟ سر گو پالا سوامی آئینگی اس کے خلاف سرگوپال سوامی آئینگر اگر چہ اپنی ہٹ کے پکے تھے لیکن واقعات میں ایجاد اور تصرف نہیں کرتے تھے۔میں اپنی پہلی تقریر میں کشمیر مں ڈوگرہ مظالم کی داستان کے سلسلہ میں بیان کیا کہ ۱۹۳۴ م تک ریاست کشمیر میںکسی شخص کا اپنی گائے ذبح کرنا نہ صر روم تھا کہ اسقدر سنگین تریم کہ اس کی سزا عمر قید تھی میراء میں اس تعزیہ میں تخفیف ہوئی لیکن اب بھی اس جرم کی سزا غالباً سات سال قید با مشقت ہے۔اجلاس کے اختتام پر جب ہم کمرے سے باہر نکلے تو سرکو پالا سوامی نے اپنا بازو میرے با ز میں ڈال لیا اور فرمایا ان تفاصیل میں جانے کی کیا ضرورت تھی ؟ میں نے کہا ضرورت کا فیصل تو مجھ پر رہنے دیئے لیکن آپ تو ایک عرصہ شیر کے وزیرا عظم ہے ہی آپ ہی فرمائیں کہ وقت کشی میگا کسی کی کیا سنا ہے ؟ انہوں نے فرمی بھائی واقعہ تو یہی ہے کہ ابھی اس جرم کی سزا سات سال نہیں بلکہ دس سال قید بامشقت ہے۔لیکن تم یہ تبادت ملک کی قیم پر پاکستان کیوں منتقل ہوگئے۔تمارا وطن تو تقسیم کے بعد مشرقی پنجاب میں ہے۔اگر تم ہندوستان میں رہتے تو ہندوستان کی سپریم کورٹ کے پہلے چیف جسٹس ہوتے۔میں نے کہامیں جانتا ہوں لیکن یہ بھی جاتاہوں کہ نام کو تو میں چیف جسٹس ہوتا لیکن عملی میں نظر بندی میں ہوتا۔کہنے لگے یہ تمہا را درہم ہے۔جانبین کی دو دو تقریریں سنے کے بعد مجلس امن نے بیٹے کیا کہ ماہ جنوری کے صدر مجلس پر دفعیہ لگن توف اور ماہ فروری کے صدر مجلس جنرل میکنائن فریقین کے نمائندوں کے ساتھ گفتگو کے بعد تصفیہ کی کوئی علی تجوید مجلس میں پیش کریں۔مجلس امن کی صدارت ہر ماہ بدلتی ہے۔جنوری کی صدارت بلجیم کی تھی فروردی کی کنیڈا کی۔چنانچہ فروری کے شروع میں تبادلہ خیالات کے سلسلہ کی ابتداء ہوئی۔صدر صاحبان فریقین سے علیحدہ علیحدہ بات چیت کرتے تھے۔فریقین کی تقریروں سے اراکین مجلس نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھاکہ اگر یہ یہ مسئلہ نہایت اہم ہے لیکن اس کا سلجھانا چنداں مشکل نہ ہو گا کیونکہ فریقین اس بنیادی بات پر متفق ہیں کہ ریاست کے الحاق کا فیصلہ