تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 36 of 736

تحدیث نعمت — Page 36

ہے۔پاکیزگی سلاست ، نزاکت اور شفقت دونوں نظموں کا خاصہ تھے۔چونکہ مستر قائدین کے میاں لندن یونیورسٹی کے طالب علم رہ چکے تھے۔اس لئے جب انکی وفات کے بعد مسٹر فائزان نے اپنے مکان میں بورڈنگ ہاؤس جاری کیا تو ان کی خواہش پر یونیورسٹی نے اپنے طلبا کی اطلاع کیلئے ان کے مکان کو بھی ان مکانوں کی فہرست میں شامل کر لیا جس میں طلبا کی رہائش کا انتظام ہو سکتا تھا۔اس ذریعے سے بھی بعض دفعہ غیر ملکی طلبا ان کے مکان میں رہائش کے لئے آجاتے تھے۔انکے ہاں ملازم کا کام ایک جرمن نو جوان کرتا تھا۔جو زبان سیکھنے کی خاطر انگلستان محنت مزدوری کرنے آیا ہوا تھا۔منس لائیزا پارسنز | میرے قیام کے دوران میں جو لوگ کچھ عرصہ کیلئے اس مکان میں ٹھہرے ان میں سے سب سے لمبا عرصہ ٹھہرنے والی ایک خاتون مس لائنزا پارسنز تھیں۔ان کے والد کیمبرج میں سکونت پذیر تھے وہ خود ہر سمتھ کے علاقہ کی تبلیغ انجیل کی ایک سوسائٹی کی سکریڑی تھیں۔بہت نیک خاتون تھیں مسٹر فائزن کی طرح میرے ساتھ بہت شفقت سے پیش آتی تھیں۔معاشرتی طور طریق اور راہ دردم کے متعلق ان کی رائے بہت صائب تھی اور ان کا مشورہ میرے لئے بہت مفید ہوتا تھا۔ان کی ایک چھوٹی بہن میں اپنی پارسنز الیسٹ لندن ہسپتال میں نرس تھیں۔یہ بہت بڑا ہسپتال تھا اور وہاں کی نرسوں کی بیرون ملکہ وکٹوریہ آنجہانی کی دور کی رشتہ دار تھیں میں اپنی پارسنز نے دو ایک بار ہمیں ہسپتال میں چائے کی دعوت دی اور میٹرن کے ساتھ ہمارا تعارف بھی کرایا۔ہم نے ہسپتال کے مختلف دارد دیکھے آنکھوں کے وارڈ میں ایک بڑی طاقت کا مقناطیس تھا۔اگر کسی شخص کی آنکھوں میں لوہے کا ریزہ پڑ جائے تو اس مقنا طیس کی کشش سے اسے آنکھ سے نکالا جا سکتا تھا۔جب میں پارسنز نے اس مقنا طیس کا بٹن دبایا تو میں بالکل قریب کھڑا تھا۔اتفاق سے میں نے اپنی گھڑی جہ سے نکالی جس کا کیس گن میٹل کا تھا۔اگر چہ گھڑی چمڑے کے تسمے کے ساتھ میری واسکٹ کے بٹن سے بندھی ہوئی تھی۔پھر بھی ایک مجھکے کے ساتھ اچک کر مقناطیس کے ساتھ چمٹ گئی۔مقناطیس کا بٹ بند کرنے پر آزاد تو ہوگی لیکن اسے کچھ لیا مقناطیسی اثر ہوگیا کہ میرے پوتے مہینے اس پر گویا دیوانگی کا دورہ پڑ تا اور یکایک اسکی رفتار دومین گناتیز ہو جاتی۔دو تین پر ن بعد پھر ہوش میں آجاتی اور اپنی اصل رفتاری پر قائم ہو جاتی۔یہ گھڑی میں نے بال پائیک جیولر کے ہاں سے خریدی تھی جین کی دوکان سنٹرل لنڈن ریلوے کے اسٹیشن کے بالکل سامنے تھی۔میں گھڑی ان کے پاس لے گیا کہ وہ اس مرض کا کچھ مداوا کریں۔انہوں نے بعد شخص کہا کہ مقناطیسی اثر آہستہ آہستہ رفع ہوگا اور مجھے صبر کا مشورہ دیا۔وہ گھڑی مجھے عزیز تھی اسے چھوڑ کر نی گھڑی خرید کرنا مجھے دو بھر تھا۔