تحدیث نعمت — Page 518
۵۱۸ تک سمجھتے ہوے قائد اعظم سے اس کا بدل لینے اور پاکستان کے صوبے کو ناکامیاب کرنے کا م ارادہ کر لیا تقسیم بند کے سلسلہ میں منٹ میں پر معنی داری کا جو الزام لگایا جاتاہے اس کی تردید میں منٹ میٹین نے ایک انگریزی مصنف مسٹر یا ڈسن سے ایک کتاب شائع کرائی ہے جس کا نام THE GREAT DIVIDE ہے سیکرٹری آف سٹیٹ کے نام مونٹ بیٹن کی متذکرہ بالالہ پورٹ کا ذکر کرتے ہوے ان صاحب کو بھی اعتراف کرنا پڑا ہے کہ اپنی انا کے مرضی ہے پر وہ اس رپورٹ میں اپنے معاندانہ ردعمل کے اظہار سے باز نہ رہ سکے۔انتقال اختیارات کے بعد مونٹ بیٹن نے انڈین سمبلی میں تقریر کرتے ہوئے جس گرم جوشی کا اظہار کیا اس کا مقابلہ اس تقریرہ سے کرتے ہوئے جو مونٹ بیٹن نے پاکستان اسمبلی میں کی جس میں دیسی گرمجوشی کا فقدان تھا۔میں مصنف تسلیم کرتے ہیں کہ علاوہ اور باتوں کے مر ناج نے مونٹ بیٹن کے دونوں ڈومینز کا گورنر جنرل ہونے کی میدوں پر جو پانی پھیر دیا ناممکن ہے اس کی رینش ابھی مونٹ بیٹن کے دل میں باقی ہو یہ مونٹ بیٹن کی پاکستان دشمنانی ظاہر یہ ہے کہ ان کے مداحین کو بھی دی زبان سے ہی ہی اس کے محرکات کا اعتراف کرنا ہی پڑتا ہے۔اعلیٰ حضرت نظام کی طرف سے بطور آخرالست عشرہ میں قائد اعظم نے مجھے بھوپال سے کراچی طلب صدر اعظم حیدر آباد جانکی پیش کش رای امر ہونے پر یا ایران علی حیدر آباد سے آے تھے اور فرمایا۔حاضر اعلی حضرت نظام کی طرف سے پیغام لائے تھے کہ میں تمہیں صدراعظم کی حیثیت سے حیدر آباد جانے پر آمادہ کروں تاکہ تم اعلی حضرت اور حکومت ہند کے درمیان مناسب سمجھوتے کی صورت پیدا کرنے کی کوشش کرد۔میں نے انہیں یہ کمر کہ اپس کر دیا ہے کہ وہ اعلی حضرت کی راضی تحریر لائیں کہ جو شور تم دوگے یا تو جو تم کر کے وہ اعلی حضت قبول فرمائیے اور اس کے مطابق عمل کریں گے۔میں نے عرض کیا میں تو کسی شرط پر بھی حیدر آباد جانے کے لئے تیار نہیں فرمایا یہ عورت ہی پیدا نہیں ہوگی کیونکہ اعلی حضرت میری مطلوبہ تحریر نہیں دیں گے۔اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کی قیادت را دارا میں نے تہیں اسے لایا ہے کہ تم امام محمد میں کرنے کے لئے قائد اعظم کا ارشاد پاکستانی رند کی قیادت کرد اس وقت تمہارا کیا پروگرام ہے ؟۔۔میں نے عرض کی میرا پروگرام تین چار دن کے لئے لاہور جانے کا ہے تاکہ پنے عزیز و اقارب کی خیریت معلوم کر دوں اور بڑ ھی علوم کریں کہ موجودہ طوفان و تلاطم می ان کی کیا حال ہے۔فرمایا اچھاچھے جاؤ تمہارے جانے آنے کا نظام کردیا ا جائے گا۔لیکن ہم رستمی شداد کو واپس ضرور پہنچ جانا۔لاہور میں وکیفیت مں نے دیکھی وہ ناگفتہ بہ تھی مری ایران میرے بھائی شکر اللہ خاں بیمار ہو کر سکہ سے میو ہسپتال لاہور میں آئے ہوئے تھے۔میں ان کی عیادت کے لئے گیا تو معلوم ہوا کہ تپ دق کے آخری مراحل سے عبد عبد گذر رہے ہیں اور معالج مایوس ہوچکے ہیں۔میں نے عزیزم عبداللہ اں سے کہا کہ انہیں اب ہسپتال سے اپنے مکان پر لے جایں چونکہ ھے اداعظم کے ان کی تعمیل می نور کراچی واپ