تحدیث نعمت — Page 517
علاوہ ازیں ایلی وزارت نے ان کے ذمہ یہ فرض عاید کیا تھا کہ ہندوستان کی سالمیت سجال رکھنے اور کانگریسی اور مسلم لیگ کو کینٹ مشن کی تجاویز پرعمل پرا ہونے پہ آمادہ کریں۔قائد اعظم کی مستقل مزاجی نے انہیں اس مقصد کے حصول میں کامیاب نہ ہونے دیا اور انہوں نے اس نا کامی کو ذاتی شکست سمجھ لیا۔بیشک پنڈت نہرو سے ان کی ذاتی د دوستی اور پنڈت جی اور دوسرے کانگریس لیڈروں کی چاپلوسی بھی مونٹ بیٹن کی خوش بد اسپند طبعیت پر اثر انداز ہوئی ہوگی لیکن جس شدت سے انہوں نے پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کیا اس سے انکی قائداعظم اور ان کے مشن سے فاتی دربخش اور عناد کا اظہارہ بھی ہوتا ہے۔جب مونٹ بیٹن کی سر توڑ کوشش کے باوجود قائد اعظم کینٹ مشن کی تجاویز کو زندہ کئے جانے پر رضامند نہ ہوئے اور ملکی قیمت ناگزیر ہوگئی تو بیٹی کو اپنی خفت مٹانے کی یہ تویہ ی که هندوستان تقسیم و که عبارت اور پاکستان در دومینین قائم کئے جایں جو دونوں برطانوی دولت مشت کرمی شامل نہ ہیں اور وہ دونوں ڈومنینز کے پہلے گور نہ جنبی ہوں۔قائد اعظم نے تو پاکستان کے برطانوی دولت مشترکہ میں شامل رہنے پہ رضامندی دیدی ہوئی تھی اور مونٹ میٹین نے کانگریس کو بھی خفیہ سمجھوتے کی شرائط یہ اس پر آمادہ کر لیا تھا۔اب صرف اس کی یہ بڑی خواہش یا تی تھی کہ کانگریس اور سلم لیگ دونوں اسے پہلے گورنہ برل کے طور پر قبول کر لیں۔کانگریس نے مونٹ بیٹن کا بھارت کا پہلا گورنہ منزل ہونا منظور کر لیا لیکن قائد اعظم ے اس تجویز کو منظور کرنے سے انکار کر دیا۔اپنے زعم میں منٹ مین کو یقین تھا کہ قائداعظم بھی اس تخونہ کو نے منظور کر لیں گے اور انہوں نے کانگریس لیڈروں اور برطانوی وزارت کو بھی یقین دلایا ہوا تھا کہ یونی مسلم یگ اور اس کے قائد کو بھی منظور ہوگی۔قائداعظم کے انکار نے جہاں انکی امیدوں کے محل کو چکنا چور کردیا ہاں انہیں برطانوی وزارت اور کانگریس لیڈروں سے خفت بھی اٹھانی پڑی۔ان کے پندار پہ یہ آخری ضرب الیسی کاری پڑی کہ وہ بوکھل گئے اور قائد اعظم سے اس مشاوری گفتگو کے دوران دھمکیوں اور خفیف الحرکتی پر اتر آئے۔یہ گفتگو ا ر جولانی یاء کو ہوئی تھی۔دو دن بعد مونٹ بیٹن نے قائد اعظم کے انکاری فیصلے کی یورٹ سیکر یٹری آف سٹیٹ کو بھیجی۔اس میں اس گفتگو کو ایک ماما BOMBS H E قرار دیتے ہوئے BombshelL +4 لکھا میں نے ان (قائد اعظم سے دریافت کیا معلوم ہے آپ کو انکار کتنا مہنگا پڑے گا ؟ انہوں نے افرده لہجہ میں جواب دیا ہاں ASSETS کی تقسیم میں غالباً کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔میں نے ذرا تلخ لیجے میں کہا کروڑوں کا نہیں بلکہ آپ سارے "ASSETS" کھو بیٹھیں گے اور پاکستان کا نے ذرا مستقبل بھی۔یہ کہ کہ میں کھڑا ہو گیا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔" (مونٹ بیٹن کی رپورٹ نمبر 1 محرہ ہم سولائی ار بنام سیکریٹری آف سٹیٹ )۔اس دھمکی سے اور اس بد خلقی سے حسین کا اعتراف خود مونسٹ بلیٹین نے اپنی رپورٹ میں کیا سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قائد اعظم کے انکار سے انہیں سخت تکلیف پہنچی اور انہوں نے اسے ذاتی