تحدیث نعمت — Page 502
۵۰۲ دفتری سامان صبح سات بکے تمہاری قیام گاہ پر موجود ہو گا۔میں نے شکریہ ادا کیا اور اپنی قیام گاہ پر واپس آیا۔نما نہ میں درگاہ رب العزت میں فریادی اور میتھی ہوا۔الہی میں تن تنہا عاجز اور بکیں اور قد مر داری استفدر بھاری اس فرض کی یا حقہ ادائیگی کی کیا صورت ہوگی ؟ تو جانتاہے میں تو بالکل خالی اور صفر ہوں لیکن تھے پر قدرت ہے تو اپنے فضل و رحم سے مجھے فہم اور توفیق عطافرما اور خود میرا ہادی اور نا صر ہو۔مجھے اپنی پریکٹس کے زمانے میں کئی بار یہیت تھوڑے وقت میں پیچیدہ مقدمات کی بحث کی تیاری کرنی پڑی تھی لیکن وہ کس طرح بھی پریشان کن تجربہ نہیں مقاسات ضروری کا غذات مہیا ہوتے تھے۔اہم مقدمات میں کوئی رتی کا سا تھ شامل ہوتا تھا۔موافق مخالف مواد پیش نظر تو ھا۔صرف کیوی اور توجہ درکار ہوا کرتے تھے۔یہاں ذمہ داری تواس قدر اہم اور باقی صفر اگر ان اعظمی امور میں تشریف فرما ہوتے تو میں انکی خدمت میں حاضر ہو کر ہدایت کا کرتا لیکن دو ہی میں تھے ٹیلیفون پر بات ہوسکتی تھی لیکن ٹیلیفون پر ایسی ہدایات حاصل کرنا غیر مناسب تھاتھ کی مجھے یہ بھی اس تھانہ کیس کے متعلق جو تیاری ہوتی ھی وہ مسلم لیگ لاہور کی قیادت کے ذمے تھی۔میں اگر قائد اعظم کی امت میں کچھ گذارش بھی کروں تو وہ ایک انگ کا شکوہ ہو گا اور ان کی پریشانی کا موجب ہو گا۔اس سے مجھے کوئی مدد نہیں مل سکے گی۔میری مضطر یا نہ دعا کا جواب میں نماز سے تاریخ ہو تو معلوم ہوا خواجہ عبدالرحیم صاحب تشریف لائے ہیں۔خواجہ صاحب ان دنوں کمشنر راولپنڈی تھے لیکن لاہور میں پناہ گزینوں کے استقبال اور انکی خبرگی کا انصرام ان کے سپرد تھا۔ان کا دفتر میری قیام گاہ کے مقابل والے بنگلے کے احاطے میں دو خیموں میں تھا۔خواجہ صاحب نے فرمایا تمہارا وقت بہت قیمتی ہے۔میں زیادہ وقت لینا نہیں چاہتا۔میں کچھ کاغذات لایا ہوں میں نے انے طور پر سر کاری ریکارڈ سے پنجاب کے دیہات تھانہ جات تحصیلات اور اضلاع کی فرقہ وارانہ آبادی کے اعدادو شمار جمع کرائے ہیں۔یہ سارے صوبے کی آبادی کے نقشہ جات ہیں ممکن ہے تمہیں کیس کی تیاری میں ان سے کچھ مد سل کے۔اس کے علاوہ کیس کے سلسلہ میں اگر تمہیں کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔میرا دفتر سامنے کیا ہے اور یہ میرا ٹیلیفون نمبر ہے۔میں نے خواجہ صاحب کا پتہ دل سے شکریہ ادا کیا اور وہ تشریف لے گئے۔میرادل اللہ تعالی کے شکر سے لبریز ہو گیا میں نے محسوس کیا کہ اس نادر در تمیم نے میری مضطر بانہ دعاء کے جواب میں استقدر علد ری کی پوری کی نظر لی اور اپنیطرف سے ضرور معلومات کا کیا جانا مجھ عطا فرمایا میری ڈھارس بن رھی کہ حسن قادر ہستی نے چند لمحوں کے اندر غیب سے استقدر قیمتی مواد مجھے عطا فرمایا ہے جس کے بغیر میں ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتا تھا وہ ضرور باقی مراحل میںبھی میری دستگیری فرمائے گا اور اپنی رحمت سے مجھے فہم اور توفیق عطا فرمائے گا۔بے لوث اور رضا کارانہ خدمت کرنے والے احباب | خواجہ صاحب کے رخصت ہونے کے بعد بیاید کلاء صاحبان تشریف لے آئے۔صاحبزادہ نوازش علی صاحب مرحوم اور شیخ شار احمد صاحب منٹگمری سے۔سید محمد شاہ صاحب توم