تحدیث نعمت — Page 501
۵۰۱ مابین صاحب اور بیس تیجا سنگھ صاحب بھی موجود تے سری لانے کی کار دارم مناتے ہوئے حکم دیاکہ این اے جمعہ کی دو پہر تک فریقین اپنے تحریری بیانات داخل کر دیں۔آئندہ سوموار سے کمشن و کلا کی بحث کی سماعت شروع کرے گا۔وہ خود بحث کی سماعت میں شریک نہیں ہوں گے کیونکہ اگرکمشن کے چار اراکین بالاتفاق یا کثرت رائے سے حد بندی تجویز کریں تو انکی طرف سے کسی دخل اندازی کی ضرورت نہیں ہو گی۔ان کا کام صرف اسی صورت میں فیصلہ دینا ہے جب کشن کے چار اراکین متفقہ اکر اس سے کسی نے پر پہنچ سکیں کیٹ کے روبرو جو کچھ یا کیا جائے اس کی تفصیلی رپورٹ پر وہ انہیں بھی دی جایا کرگی یہ طریق کار بھی میرے لئے پریشانی کا باعث ہوا۔مسلم لیگ کی طرف سے تحریری بیان کی تیاری میکی در پیروی کیتی اور تحریری بیان جمعہ کی دو پر شاغل کئے جاتے تھے اس وقت تک مجھے ابھی علم نہ تھا کہ میرے ساتھ کون وکلاء صاحبان کام کریں گے۔اور انہوں نے تحریری بیا اس کے لئے ضروری مواد تیار کرلیا ہے یانہیں اور بت کی تیاری میں میرے رفقا کہاں تک میں مدد کرسکیں گے ؟ مجھے اس وقت تک یہ بھی نہیں لایاگیاتھا کہ ہماری طرف سے کمشن کے روبرو کیا ادعا پیش کیا جاتا ہے۔میں بنیائی سے وکلاء کے ساتھ 4 بجے ہونے والی میٹنگ کا منظر تھا کہ ان سے ان سب امور کے متعلق تفاصیل معلوم کروں اور ہم سب مستعدی سے اپنے اپنے کام میں لگ جائیں۔میں وقت مقررہ پر ممدوٹ والا پہنچ گیا رہاں بہت سے وکلا واصحاب موجود تھے۔ان میں سے اکثر و کلاء کے ساتھ میں اپنے پر کیس کے زمانے میں کام کر چکا تھا اور انہیں اچھی طرح جانتا تھا۔بعض ان میں سے برسوں مجھ سے سنیٹر تھے۔یہ استماع ممدوٹ والا کے گول کمرے میں تھا۔مجھے کسی قدر سیرت ہوئی کہ اتنے قانون دان اصحاب کو کیوں جمع کیا گیا ہے۔میں نے دکھا صاحبان سے دریافت کیا کہ آ میں سے کون کون صاحباس کیس میں میرے رفیق کار میں ؟ اس پر ڈاکٹر خلیفہ شجع الدین صاحب نے بابا کس کیس میں ؟ میں نے کہا اسی حدبندی کے کیس میں جس کیلے میں حاضر ہوا ہوں خلیفہ شجاع الدین ان نے ایام میں تو کس کیس کا کوئی علم نہیں ہم سے اور یہ کہا گیا تاکہ تم کیس کی پیروی کیلئے آئے تو اس سیکشن کے دور مسلم لیگ کا سیستم پیش کرو گے اور میں نے کیلئے ہمیں اس وقت یہاں آنے کی دعوت دیگئی تھی۔میں نے نواب صاحب کی طرف استفاد دیکھا تو وہ صرف مسکرا دیے۔میں نہایت سراسیمگی کی بات میں اٹھ کھڑا ہوا وکلاء صاحبان سے معذرت خواہ ہوا کہ وقت بہت کم ہے اور مجھے کیس کی تیاری کرنی ہے اسلئے رخصت چاہتا ہوں۔نواب صاحب میرے ساتھ ہی کمرے سے باہر آئے میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا اس قوت مجھے کچھ سو کچھ نہیں رہا لیکن بہر صورت آئندہ دو دنوں میں تحر یر ی بیان تیار کرنا ہے اور پھر اسکی تائیدمیں بحث کی تیاری کرنی ہے کل صبح سے مجھے کچھ نہ کچھ لکھوانا ہو گا۔آپ یہ انتظام فرمائیں کہ کل صبح دو اچھے ہوشیار تیز رفتار سٹینو گرافر میرے پاس پہنچ جائیں اور وہ کاغذ پنسل قلم دوات ٹائپ کی مشین وغیرہ تمام دفتری سامان ساتھ بیتے آئیں تاکہ میں تحریری بیان لکھوانا شروع کر سکوں۔نواب صاحب نے فرمایات تکرین کروز دو نویس اور سب