تحدیث نعمت — Page 481
الأكم چھیتی ہاؤس لندن میں رائیل انسٹی ٹیوٹ شاہ کے مارت میں تینیم ماؤس لندن میں رائیل انسٹی آف انٹر نیشنل آفٹرز کی کانفرنس میں ٹیوٹ آن انر فیشیل ایز کی سر پرستی میں دولت مشترکہ کے ہندوستان کی آزادی کے حق میں میری تقریر نمائندگان کی ایک کانفرنس کا اہتمام کیاگیا ہندوستان کی انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے بھی ایک وفد نے اس کا نفرنس میں شرکت کی۔وفد کے اراکین میں میرے علاوہ کنور سر مہاران سنگھ میر مقبول محمود ، مسٹر سی ایل مہینہ اور خواجہ سر در حسن شامل تھے۔افتتاحی اجلاس میں ہر وفد کے قائد سے پانچ پانچ منٹ کی تقریر یں اختصارا اپنے اپنے مک کی جنگی سرگرمیوں کا خلاصہ بیان کرنے کی استدعا کی گئی۔ہندوستان کی باری آنے پر میں نے تین منٹ میں ہندوستان کی جنگی سرگرمیوں کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہا ۱۲۵ کو ہندوستانی کسی نہ کسی حیثیت میں جنگ کے مختلف محاذوں پر برطانیہ اور الحادیوں کی آزادی اور سلمیت کی حفاظت اور دفاع کے سلسلے میں مختلف انواع کی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔اور ان کی طرف سے جان کی قربانی پیش کرنے میں بھی دریغ نہیں ہوا۔علاوہ فوجی اور جنگی امداد کے ہندوستان نے سامان عرب اور ذخائہ خورا مہیاکرنے میں بھی نمایاں خدمت کی ہے اور قابل قدر خون قام کیا ہے۔اس سلسے میں بعض تفاصیل کا ذکر کرنے کےبعدمیں نے کہا اول مشترکہ کے سیاستدانوں کی یہ ستم ظریفی نہیںکہ ہندوستان کے 10 لاکھ فرزندوں نے میدان جنگ میں ملک برطانیہ کی آزادی کی حفاظت کے لئے داد شجاعت دی ہو ین خود ہندوستان کی اپنی آزادی کا انتظار اس کےلئے ملتی ہو ؟ شاید ایک مثال اس کیفیت کو واضح کرنے میں مد ہوسکے۔سین کی آبادی اور رقبہ ہندوستان کی آبادی اور رتبے سے بیشک زیادہ ہے لیکن وسعت اور آبادی کے علاوہ باقی ہر لحاظ سے چین آج ہندوستان سے کوسوں پیچھے ہے، تعلیم صنعت و حرفت ، وسائل آمد و رفت عرض خوشحالی کے تمام عناصر کے لحاظ سے ہندوستان چین سے کہیں آگے نظر آتا ہے۔پھر کی دی ہے کہ مین تو آج دنیا کی بڑی طاقتوں میں شمارہ ہوتا ہے اور سہندوستان کسی گفتی میں نہیں ؟ کیا اس کی صرت کی وجہ نہیں کہ تین آزاد ہے اور ہندوستان محکوم په لیکن یہ رات اب دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ہندوستان بیدار ہو چکا ہے اور آزاد ہو کر رہے گا۔کامن ویلین کے اندر رہ کر اگر آپ سیکو ہ منظور ہو اور کام دینے کو ترک کر کے اگر آپ ہندوستن کے لے اورکوئی رستہ نہ چھوڑیں۔یہ اجلاس سہ پہر کو جو تھا اجلاس کے ختم ہونے پر جب ہم تیم ماوس سے نکلے توشام کے اخبار اسٹار میں میری تقریر کا یہ حصہ لفظ بہ لفظ موٹے مرون میں چھپا ہوا تھا اور لوگ اس پرچے کو بڑے شوق سے خرید رہے تھے۔کچھ عرصہ بعد کانگریسی لیڈر مسٹر آصف علی صاحب ے مجھے بلایا جن دنوں لندن میں تم نے یہ تقریر کی پنڈت جواہر لال نہرو اور کانگریس کے سرکردہ اراکین جین میں یں بھی شامل تھا اور نگ آباد دکن کے قلعے مں نظر بند تھے۔ہم کا نفرنس کے اس اجلاس کی کاروائی کو ریڈیو پر سن رہے تھے جب ت نے دولت مشترکہ سے سیاستدانوں کیہ کر روانہ بلند کی توہم سب توجہ سے تمہاری تقریری نے گے۔پنڈت نہرو تواناکان ریڈیو کے بہت قریب سے آئے جب تم نے تقریر یت کی تو نہ جانے کہا اس شخص نے تقسیم سے بھی بڑھ کر بے باکی سے حکمت