تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 479 of 736

تحدیث نعمت — Page 479

۴۹ - بلاطلاع اور با وجود دارد دلیوں کے روکنے کے میری سرکاری رہائش گاہ کے ملاقاتی کمرے میں جہاں میں اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا آگئی میں یہ امر میری پردہ نشین بیوی کے لئے پریشانی کا موجب ہوا تھا اور انہیں سراسیمگی میں وہ کرہ فوراً گھوڑنا پڑاتھا۔اس پس منظر یں مجھے اس خاتون کی کوئی رعایت تو منظور نہ ہوسکتی تھی۔میرا فرض صرف سوال زیر بحث پر غیر جانبدارانہ رائے قائم کرنا تھا۔میرا استدلال تھا کہ مہا راجہ صاحب پر پابندی تھی کہ وہ سپر نٹنڈنٹ پولیس کو اطلاع دیئے بغیر کوڈائی کنال کے میونسپل حدود سے باہر نہ جائیں۔اگر وہ اپ کرتے تو پولیس انہیں روکنے میں حق بجانب ہوتی۔اگر اس اطلاع کے بعد کہ مہاراجہ صاحب کو ڈائی کنال سے باہر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں پولیس افسران کسی غیر شخص کو مالا به نام سمجھ کر روک لیتے تو بھی ن کی طرف سے یہ کہنے کی گنجائش ہوتی کہم نے ظاہری حالات کے تحت ان صاحب کو مہا راجہ سمجھ کر روکدیا اس سے ہماری غلطی نیک نیتی پر مبنی تھی۔لیکن مہاراجہ کی ہوی اور صاحبزادی پر تو کوئی پابندی تھی نہیں۔انہیں رو کناکسی صورت میں جائزہ نہیں تھا۔سپر نٹنڈنٹ پولیس نے اپنے جواب دعوی میں کہا۔میں نے صاف طور پر مدعیان کو نہیں بلکہ ہر مہاراجہ صاحب کو روکنے کی ہدایت کی تھی۔سب انسپکڑ نے اپنے جواب دعوئی میں ہا کہ مجھے مہاراجہ صاب کو روکنے کی ہدایت نہیں تھی بلکہ ان کی بیوی کو رکنے کی ہدایت دیگئی تھی۔مہاراجہ صاحب کی بیوی پر چونکہ کوئی پابندی نہیں تھی اسنے انہیں روکنا پولیس کے فرائض میں داخل نہیں تھا اور یہ فعل نار اجب اور خلاف قانون تھا۔ان حالات میں غلطی کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔میرے رفقا ر نے قرار دیا کہ سب انسپکٹر نے غالب اپنے مشیر قانونی کے غلط مشورے کے ماتحت اپنے جواب دعوی میں غلط موقف اختیار کیا ہے۔مجھے اپنے نصلے میں لکھنا پڑا کہ عدالت کا فرض ہے کہ وہ فریقین کے تحدیدی بیانت کی بنا پر مسئلہ متنازعہ کا فیصلہ کرے۔عدالت مجانہ نہیں کہ اپنے آپ فریقین کے بیانات کی ترمیم کرکے ان مجوزہ ترمیم پراپنے فیصلے کی بناء رکھے۔انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سدہ کی ٹارنیٹو کا نفرنس کے زیر اثر اور سٹر آئی ویلین مقدم کے ترغیب دینے انٹر نیشنل افیئر نہ کا قیام پر میں نے ہندوستا میں انسٹی یو ان انار این ایز کے قیام پر غور کر ناشری کی یاد میں میرا بہت سا وقت انگلستان میں گذرا اور اس دوران میں مجھے یتیم ہاؤس میں رائیل انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع میسر آتے رہے۔جب مئی 1 ء میں میں نے گورنے منزل کی انتظامی مجلس کے رکن کا منصب سنبھالا تو مجھے شملہ میں اور بعد میں دتی میں بین الاقوامی مسائل میں دلچسپی لینے والے اصحاب سے میل جول کا اتفاق ہونے لگا اور چند ماہ کے مشوروی کے بعد انڈین انسٹی ٹیوٹ کے قیام کا امکان پیدا ہو گیا۔پنجابی مثل کے مطابق کہ تیرا ہوے اوہو ای کو کھوئے۔سنو بوئے دہی دروازہ کھولے) انسٹی ٹیوٹ کی صدارت کی ذمہ داری مجھے اٹھانا پڑی۔میر سرکا کر ہائش گاہ 4 کنگ ایڈورڈ ر و ڈ میں انٹی ٹیوٹ کا افتاحی اجلاس