تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 478 of 736

تحدیث نعمت — Page 478

۴۵۸ صاحب کی پہلی بیوی ہی اس لقب کی مقدارہ سمجھی جاتی تھیں۔اس خاتون سے مہاراجہ کے ایک بیٹی بھی ہوئی۔مہاراجہ صاحب سے ہوئی۔پر پابندی تھی کہ جب وہ کو ڈائی کنال کے میونسپل حدود سے باہر جانا چاہیں تو ضلع کے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو قبل ان وقت اطلاع دیں۔انکی بیوی اور صاحبزادی پر ایسی کوئی پابندی نہیں تھی۔ایک موقعہ پر مہاراجہ صاحب کی بیوی نے اپنی بیٹی کے ساتھ مدراس جانے کا ارادہ کیا۔کسی مرنے پر نٹنڈنٹ پولیس کو غلط اطلاع دی کہ مہاراجہ صاحب فلاں وقت کو ڈائی کنال سے موٹر میں کو ڈائی کنال روڈ اسٹیشن جائیں گے اور وہاں سے ایکسپریس پر مدار اس بھائیں گے ہوں اطلاع پر سپر نٹنڈنٹ پولیس نے کوڈائی کنال روڈ کے سب انسپکٹر کوٹیلیفون پر ہدایت دی کہ مہاراجہ صاحب کو ایشین پر روک لیا جائے اور ایکسپریس پر سوار نہ ہونے دیا جائے۔مہارا یہ صاحب کی بیوی اور صاحبزادی اسٹیشن پر پہنچ کہ پر یس کے انتظار میں کرہ انتظار میں چلی گئیں اور ان کے سیکر یٹری میں خریدنے اور نشستوں کے انتظام کی طرف متوجہ ہوئے۔ایکسپریس کے آنے پر سب انسپکڑ نے جس کے ہمراہ دو کانٹیل تھے خواتین کو ایک پریس پر سوار ہونے سے یہ کہ رد کردیاکہ سپرنٹنڈنٹ پولیس کی بر ہدایت ہے کہ انہیں سوار نہ ہونے دیا جائے سیکریٹری نے اسے سمجھانے کی کوشش ی کہ خواتین پرکسی قسم کی پابندی نہیں لیکن وہ ان بات پر مصر رہا۔ایک پریس روانہ ہوگئی اور خواتین کو سوار نہ ہونے دیا گیا۔ریل گاڑی کے پہلے جانے کے بعد سب انسپکٹر پولیس نے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو ٹیلیفون پر اطلاع دی کہ مہارا یہ نے دی رسید صاحب کی بیوی اور بیٹی کو روک لیا گیا ہے اور دریافت کیا کہ اب انہیں کہاں بھیجا جائے ؟ سپر نٹنڈنٹ نے کہا ھیں نے تو مہاراجہ صاحب کو رد کنے کی ہدایت دی تھی تم نے خواتین کو کیوں روکا ؟ سب انسپکڑ نے کہا مہاراجہ صاحب تو یہاں کے ہی نہیں صرف خواتین کی سیکر یٹری کےساتھ آئی میں سپرنٹنڈٹ نے کہا تم نے بڑی عالمی ک ہے اب فوراً مان سے معافی مانگو اور ان کی خدمت میں گذارش کردو کہ ان کے سفر می کوئی روک نہیں وہ ہر طرح سے آندا در ہیں۔ان واقعات کی بنا پر مہا راستہ صاحب کی بیوی نے اپنی طرف سے اور اپنی بیٹی کی طرف سے حکومت ہند ، حکومت مدراس ، سپر نٹنڈنٹ پولیس ، سب انسپکڑ اور دونوں کانسٹیلوں پر دیوانی دعوی دائر کر دیا کہ انہیں خلاف قانون ا اور درد کا یا در باران طلب کیا۔مد علی کی طرف سے ایک یا ایک پولیں اوروں نے جو کچھ کیا نیک ہیں سے اپنے فرض کی ادائیگی میں کیا۔البتہ اس میں ان سے غلطی ہوگئی کہ بجائے مہاراجہ صاحب کو رد کنے کے انہوں نے خواتین کو روک لیا۔اندریں حالات گورنمنٹ آن انڈیا ایکٹ کی متعلقہ دفعہ کی رو سے حکومت کی اجازت کے بغر وعولی مدعیان قابل پذیرائی نہیں۔عدالت ابتدائی نے اس درد کو جائز قرار دیتے ہوئے دعوی خارج کر دیا۔مدراس بانی کوٹ نے اپیل میں عدالت ابتدائی کا فیصلہ بحال رکھا۔مدعیان نے فیڈرل کورٹ میں اپیل دائر کی۔چیف جسٹس اور حج دردا چاری نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو بحال رکھا۔مجھے ان سے اختلاف ہوا، مجھے مہاراجہ صاحب کی بیوی سے اس زمانے میں ملنے کا الفاق ہوا تھا جب میں حکومت ہندمیں وزیر تھا۔میری طبیعت ان سے کسی قدر مکدر تھی، کیونکہ ایک دن وہ معدہ اپنے سیکریٹری