تحدیث نعمت — Page 468
نوازش کا شکریہ ادا کیا۔اتنے میں آسکہ اپنے نگران افسرہ کی معیت میں آگئے۔اور ہم باتیں کرنے لگے جلد ہی قہوہ اور کیب مہیا کر دیئے گئے۔آسکر شکل سے اچھی صحت میں معلوم ہوتے تھے انہوں نے بتایا کہ طور پولی کے قریب عارضی کیمپ میں چونکہ انتظام بہت جلدی میں کیاگیا تھا اسلئے آرام دہ نہیں تھا لیکن ڈگلس کے کیمپ میں حالات تکلیف دہ نہیں۔سب ضروریات مہیا ہیں۔میں نے لارڈلٹن کا پیغام انہیں دیدیا۔ہماری گفتگو زیادہ نہ ذاتی امور کے متعلق دریا میں قریب دو گھنٹے ٹھہرا۔سپرنٹنڈنٹ صاحب نے ہوٹل تک میرے ساتھ آنے پر آمادگی ظاہر کی۔لیکن می نے با اصراران سے رخصت حاصل کی اور ان کی کا ر میں ہوٹل واپس آگیا۔رخصت ہوتے وقت میں نے پھرا کی سیم نوازش کا شکریہ ادا کیا۔لندن واپسی کا سفر مطابق یہ دگرام سہولت سے طے ہو گیا۔فالحمد للہ۔" ڈاکٹر سکر یہ بندہ سے میرے گہرے دوستانہ مراسم انگلستان میں میری طالب علمی کے زمانے سے تھے پہلی عالمی جنگ کے بعد شاہ میں میرے یورپ کے سفر کی ایک غرض ان سے ملاقات بھی تھی۔جب میں عشاء میں انگلستان گیا تو وہ ترک وطن کر کے لندن میں سکونت پذیر ہو چکے تھے۔اس قیام کے دوران میں بھی میرا ان کا ہر وقت کا ساتھ رہا۔میرے ذریعے میرے عزیز احباب سید انعام اللہ شاہ صاحب، چودھری بشیر احمد صاحب اور شیخ اعجان احمد مهاب سے ان کا غائبانہ تعاریف تو اس مزدک ہو چکا تھا کہ گویا بالمشافو رابطہ ہے۔شاء میں جب سید النعام اللہ شاہ صاحب انگلستان گئے تو ان سے بھی دوستانہ میل جول ہو گیا۔بعد میں انہیں ہند دوستان آنے کے مواقع بھی ملنے لگے اور چودھری بشیر احمد صاحب اور شیخ اعجاز احمد صاحب سے بھی ذاتی محبانہ مراسم ہو گئے۔وہ جب ہندوستان آتے میرے ہاں قیام فرماتے۔جب پہلی بار تشریف لائے تو میں نے ہندوستان بھر کے چیدہ چیدہ قابل دید مقامات کی سیر کرائی۔جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسہ کے موقعہ پردہ سہارے ساتھ تا دیا بھی تشریف لے گئے بعد میں کہا کرتے تھے میری طبیعت پر سب سے گر ائمہ قادیان میں جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسہ کا ہے جو دنیا بھرمیں ایک نرالا اجتماع ہے۔وہاں مجھے ہر چہرے پر حقیقی طمانیت اور بشاشت نظر آئی جو بنی ایک بھائی کی دوسرے بھائی پر نظر پڑتی دونوں کے چہرے حقیقی خوشی سے کھل جاتے۔ڈاکٹر نہ ملا طب کے ڈاکٹر نہ تھے وہ سائنیں کے ڈاکٹر تھے لیکن علم الابدان میں انہیں بری دسترس نفتی میجلی اور روشنی کے اثرات کے ماہر تھے اور ان کے ذریعے بعض امراض کا علاج بھی کرتے تھے۔انہیں ان نی اعضائے رئیسہ کی RADIATION معلوم کرنے کی بڑی مہارت تھی اور اس کے ذریعے وہ انسان کی صحت کی کیفیت بغیر کسی غلطی کے امکان کے پچند لمحوں میں معلوم کر لیتے تھے اور مرضی سے ایک بھی سوال کئے بغیر مرض کی پوری کیفیت تبا دیتے تھے۔ہم نے ہر طرح سے انکی تشخیص کا امتان کیا اور بھی حقیقت سے تفاوت نہ پایا۔علم طبعیات کے مشہور عالم ماہر سر سی دی ، رامن سے میرے گہرے مراسم تھے۔میں جب کبھی بنگلور جاتا وہ ایک شام میرے ساتواں کرتے میں آسکر کے ساتھ منگور گیا تو سر سی ، وی ، مرامن نے آسکر سے ملاقات کے بعد انہیں اپنی انسٹی ٹیوٹ میں مدھو i