تحدیث نعمت — Page 467
کہ میں اسے بھولا نہیں۔اس پر فرمایاں تباہی کر سکتی ہوں کہ تم عجیب آدمی ہو۔میں تمہاری واپسی پر سفر کے حالات اور ملاقات کی کیفیت سننے کی مشتاق ہوں گی۔میں نے کہا میں ضرور حاضر خدمت ہو کر گذارش کر دوں گا۔انشاء اللہ۔لندن سے فلیٹ وڈ کا سفر بذریعہ ریل دل کے دوران میں مطابق پروگرام طے ہوگیا۔لیکن جس جہان سے ہم نے لیٹ روڈ سے ڈگلس جانا تھا اے فلیٹ روڈ پہنچے میں تین چار گھنٹے کی دیر ہوگئی دو ہی معلوم ہوئی کہ جان والی حاصل کرنے میں مشکل پیش آئی۔اور دو تین قریب کے بندر گاہوں کے درمیان گھومنا پڑا۔جب جہانہ فلیٹ وڈ پنچا تو فرسوار کر لئے گئے۔لیکن اس عرصے میں جوار بھاٹے کا بہاؤ سمندر کی سمت ہو چکا تھا۔اور پانی اس سرعت سے سمٹ رہا تھا کہ جہاز کا حرکت کر ناشکل انہ گھنے اور اپنی جان کے نیے سے بالکل نکل گیا در جا زمین پر کھڑا رہ گیا شہر کے لوگ اپنے کاموں سے فارغ ہو کر یہ تماشا دیکھنے آ گئے۔ان میں سے بعض نے جہانہ کے گرد چکر لگانا شروع کر دیا۔پروگرام کے مطابق ہمیں شام کے کھانے کے وقت و حمل پہنچنا چاہیے تھا لیکن اب نصف شب سے قبل روانہ ہونا مکن نہ تھا جہاز پر نزوں کے لئے باقاعدہ کھانے کا انتظام تونہیں تھا لیکن چائے اور سینڈ ڈی میں تھیں اور حالات کے لحاظ سے یہ بھی نعت غیر مترقہ تھیں۔سونے کے کمرے تو تھے نہیں لیکن کپتان نے کمال نوازش سے میرے لئے دوکیل مہیا کر دیئے اورمیں سموکنگ سیلون کے صوفے پر سو گیا نصف شب کے قریب فلیٹ وڈ سے روانہ ہو کہ جان میں گھنے بعد مجلس پہنچا۔میں گہری نیند سورنا صوفے سوگیا سے روانہ تھا۔کسی نے میرا شانہ ملایا۔آنکھ کھلنے پر معلوم ہوا کہ غیر ملکیوں کے کیمپ کے سپر نٹنڈنٹ صاحب ہیں۔انہوں نے فرمایا یہاں سے قریب ہی تمہارے لئے ہوٹل میں کمرے کا انتظام ہے۔میں تمہیں دریاں نے چلتا ہوں کیپ یہاں سے آٹھ نو میل کے فاصلے پر ہے۔میں صبح ناشتے کے بعد ہوٹل میں آ جاؤں گا اور تمہیں کیمپ لے چلوں گا۔میں نے ان کا شکر یہ ادا کیا کہ انہوں نے میری خاطر استقدیر زحمت گوارہ کی اور بہانہ کے بے وقت پہنچنے کی وجہ سے ان کے رات کے آرام میں بھی خل ہوا۔ہوٹل کا کمرہ بہت آرام دہ تھا انگیٹھی مل رہی تھی۔میں نے سپر نٹنڈنٹ صاحب سے کہدیا کہ میں ناشتے سے فارخ ہو کر نو بجے تک تیار ہو جاؤں گا۔ناشتے پر معلوم ہوا کہ شاید کے امرتسم مارشل لاء کے ناظم کریں جبان اسی ہوٹل میں مقیم ہیں لیکن شدید مایہ ہیں۔اور چند گھنٹوں کے مہمان ہیں۔چنانچہ اسی دن رحلت کر گئے۔سپر نٹنڈنٹ صاحب عین وقت پر تشریف لائے۔اور اپنی کار میں مجھے کیمپ لے گئے انہوں نے اپنے دفتر کے مرے ہی میں مالہ کا طلاقاً کا انتظام کیا ہوا تھا۔کرہ بہت فراخ تھا۔اور وہ اس کی ایک جانب اپنے کام میں مصروف تھے۔انہوں نے مجھے تا دیا کہ کمرے کے جس حصے میں آسکر اور میں ہوں گے وہاں ہمارے قریب ہی ایک افسہ موجود رہے گا کیونکہ قواعد کی رور سے یہ ضروری ہے لیکن وہ اپنی کتاب کے مطالعہ میں مصروف ہوگا۔اسے ہماری باتوں مں کوئی بھی نہیں ہو گی نیا۔امید ہے اس کی موجودہ کی تمہارے لئے وقت کا موجب نہیں ہوگی۔میری طرف سے تمہاری ملاقات کے وقت پر بھی کوئی پابندی نہیں۔تم جب تک چاہو ٹھر سکتے ہو اور جو بات چیت چا ہوں آزادی سے کر سکتے ہو۔مں نے پھر انکی۔۔"