تحدیث نعمت — Page 465
۴۶۵۔۔حفاظتی پاسپورٹ رکھتے تھے لیکن جو کہ پہلی عالمی جنگ میں جرمنی کی طرف سے سنگ میں شامل رہے تھے اسلئے انہیں اس مرحلے پر آزاد بھی تھوڑا نہیں جا سکتا تھا۔وہ بھی کمر است میں لے لئے گئے۔اول اولی تو انہیں اور پول کے قریب ایک عارضی کیمپ میں رکھا گیا۔لیکن پھر وہ آئل آن مین میں ایک مستقل کیمپ میں منتقل کمہ دیئے گئے۔میرے لندن پہنچنے کے چند دن بعد ہی لارڈ لٹن مجھے منے کیلئے تشریف لائے اور فرمایا میں نہیں آسکر کے معامے کے متعلق کچھ تفصیل بتانا چاہتا ہوں۔انہوں نے فرمایا جب مٹی سعودی نگاہ میںغیر ملکیوں ی گرفتاریاں مل میں ہیں تو حکومت کی طرف سے ایک کیٹی مقر سنگی جس کے ذمے غیرملکیوں کے حالات معلوم کر کے ان کے متعلق سفارش کرنے کا فرض عائد کیا گیا کہ ہر فرد کے متعلق کیا کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔مجھے مرکزی نائی کا صدر مقر کیا گیا کمیٹی کی سفارش پر فیصلہ کرنے کا اختیار وزیر داخلہ کو تھا۔جو ان دنوں مسٹر بر بیوٹ مارلین تھے آسکر کے متعلق اس کمیٹی کی سفارش تھی کہ شخص ماہ سے انگلستان میں سکونت پذیر ہے نہایت پر امن شہری ہے اعلیٰ درجے کا سائنسدان ہے، اس کی سائنٹفک تحقیقات سے بہتوں کو فائدہ پہنچا ہے اور مزید فائدہ پہنچنے کی کی سے امید ہے۔سیاست میں اسے کوئی دلچسپی نہیں۔نازی پارٹی کے ساتھ اس کا کبھی کسی قسم کا تعلق نہیں رہا لندن کے علمی طبقے میں اس کے بہت سے دوست ہیں جو اسے ذاتی طور پر بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔کمیٹی کے صدر اس کے ذاتی دوست ہیں۔کمیٹی کیورا اطمنان ہے کہ پولیس کو مطلع کرتے رہنے کی پابندی کے ماتحت انہیں رہا کر دینے کے راستے میں کوئی روک نہیں۔میری کمیٹی کی سفارش وزارت داخلہ کو بھیج دیگی۔مجھے قوی امید تھی کہ جوانی ابتدائی افراتفری ختم ہوکر با قاعدہ کاروائی شروع ہوگی تو یہ سنا ریش وزیر داخلہ منظور کر لیں گے۔مناسب انتظار کے بعد میں نے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ معاملہ کس مرحلے پرہے۔مجھے علم ہواکہ معاملہ وزیر داخلہ کے زیر غورہے۔چنانچہ میں سرمایسین سے ملا اور دریا کیا کسان کے نزدیک کونسا اور غور طلب ہے۔انہوں نے کہا۔مجھے اطمینان نہیں۔ایسا شخص بہت خطرے کا موجب ہو سکتا ہے۔میں مزید غور کرنا چاہا ہوں۔میں نے انہیں ہرطرح سے اطمینان دلانے کی کوشش کی لیکن وہ مجھے ٹالتے رہے۔اس کے بعد میں دو تین مرتبہ انہیں ملا۔لیکن ان کی طرف سے انکار ہوا اورپر انکار پر اصرار اور اس میں شدت بڑھ گئی۔آسر مجھے یہاں تک کہنا پڑا کہ پہلوی کونسلر کی حیثیت سے مجھے بادشاہ تک براہ راست رسائی کا حق ہے۔میں یہ معاملہ ملک نظم کے نوٹس میں لانا چاہونگا کہ وزیر داخل ایک پریوی کو فلم کی ذاتی شہادت پر جو تعلق کمیٹی کا صدربھی ہے امداد کرنے پر آمادہ نہیں۔اس کا جواب انہوں نے یہ دیا میں نہیں بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوتے سے نہیں روکتا۔لیکن تم خوب جانتے ہو کہ بارش کو ایسے امورمی کوئی اختیا نہیں۔ری اعتماد اور اطمینان کی بات سو میں صاف صاف تم سے کہہ دیتا ہوں کہ جو امور تمہارے اطمینان کا موجب ہیں۔وہی مجھے پریشان کرتے ہیں۔یہ شخص جرمن نژاد ہے۔پہلی جنگ میں جرمنی کی طرف سے لڑ ا ر ا اور اپنی صلیب کا تمغہ حاصل کیا۔NIGHT بنایا گیا۔یہاں اس کے تعلقات سب امراء کے ساتھ اس سے بڑھ کر کہ HOHEN ZOLTER OF HOHENZOLTERN,