تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 464 of 736

تحدیث نعمت — Page 464

لیکن مجھے تعجب اس بات پر ہوا کہ میرے وزیر اعظم کے ساتھ اس لیے میں سیمولی ہور کا ذکر کرنے کا انہوں نے اثر دیا۔عرصہ بعد جب وزیر اعظم پر ہی امریکہ گئے تو ارولول بطور مشرفو ان کے ہمراہ گئے۔سفر کے دوران میں وز یر اعظم ے لارڈ ویول کے متعلق بات بھی رائے قائ کی اور امر نانو کی جانشین کے ان کا انتخاب کیا۔سیمیلی اور ریال میں اپنا سفارت کا زمانہ ختم کر کے انگلستان واپس آے تو انہیں ان کی اس خدمت کے صلے میں کہ انہوں نے جنرل فریکو و جنگ میں غیر جانبدار رکھنے میں کامیابی حاصل کی تھی والی کونٹ نادیا گیا اوروہ لارڈ ٹمپل روڈکے نام سے اور امراء کے رکن ہوے جولائی کے ۱۹ء میں مجھے انگلستان جانے کا اتفاق ہوا تو میں ان کی خدمت میں بھی حاضر ہوا۔بہت تپاک سے پیش آئے اپنی تصنیف NINE کا ایک نسخہ مجھے رحمت فرمایا۔ہندوستان کے آئینی مائل ہی زیادہ ترگفتگو NINE TROUBLED YEARS 7 - کا موضوع رہے۔میں نے وائسرائے کے تقریر کے متعلق مسٹر چپہ چپل کے ساتھ اپنی گفتگو کا ذکر کیا۔فرمایا ہندوستان میں خفاقی دستور کے نفاذ کے رستے میں بڑی روک کانگریس نہیں تھی بلکہ ہندوستانی فرمان دایاں تھے۔یہ ان کی بڑی کوتاہ اندیتی تھی۔اگر کے ایکٹ کے مطابق مرکز میں وفاقی دستور کا نفاذ ہو جاتا تو ایک لمبے عرصے کیلئے ان کے اورمسلمانوں کے حقوق کی خاطر خواہ حفاظت ہو جاتی۔اب تقسیم ملک کے نتیجے میںپاکستان میں تومسمانوں کے مفاد کی حفاظت ہو جائے گی لیکن فرمایا طبقہ ختم ہو جائے گا۔چنانچہ ای ہی ہواہے۔اگر ساہیوار میں جو پل مجھے بطور وائسرائے بھیج دیے تو مرا اندازہ ہے کہ میں اس وقت بھی وفاقی دستور کو نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔فرمانه دایان ریاست کو رضامند کر لیاکچھ مشکل نه ہوتا نظام کو ہر میچوٹی کا خطاب دیدنے میں کوئی روک نہیں تھی اور وہ اس پر مطمئن ہو جاتے۔مہارا بھی بردہ کی سلامی کی توپوں میں اضافہ کر دیا جاتا۔فرمانہ وا طبقہ نے ذاتی دوستوں کے نفاذ میں درک بن کر اپنا کیری کا سامان خود میا کر لیا۔اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ممکن ہے تاریخ کا رخ بدل جاتا۔جنگ کے دوران برطانیہ میں لارہ ڈلٹن سے میری ایک عرصے سے واقفیت تھی۔کے خاندان کا بند زنان آسکر یہ نظم کی نظر بندی کے ساتھ لے عرصے تک تعلق رہا۔ان کے والد مہندستان کے دائی اہئے رہ چکے تھے۔ان کی پیدائش اسی نہ مانے میں شملے میں ہوئی تھی۔بعد میں وہ خود بنگال کے گورنہ ہوئے اور چند مہینوں کے لئے قائمقام وائسرائے بھی ہوئے۔چند سال پیشتر ان کی ملاقات آسکر سے جھوٹی اور در دو نوں میں گہرا دوستانہ ہو گیا۔شروع جنگ میں آسکر پر سوائے وقتاً فوقت پولیس میں رپورٹ کرنے کے اور کوئی پابندی عاید نہیں کی گئی تھی۔لیکن جب مٹی شہداء میں جو مین افواج نے پیش قدمی شروع کی اور فرانسیسی سپاہ نے ۱۹۳۰ء ستان مقالے کی تاب نہ لا کر ہتھیار ڈال دیئے تو برطانیہ کی حالت بہت نازک ہو گئی۔اور ہرقسم کی احتیاط لازم ہوگئی اپنی ایام میں تم غیر ملکیوں کو جو الحادی ممالک کے باشندے نہیں تھے۔زیر حراست لے لیاگیا۔آسکران من ہو۔زنوی حجم میں شہری تو نہیں تھے لیکن ابھی برطانوی شہری بھی نہ ہو پائے تھے۔وہ لیگ آف نیشنز کا