تحدیث نعمت — Page 463
۴۶۳ پیار و خمیازہ بھگت چکے ہیں۔لیکن کیا بحیثیت وزیر اعظم بالڈون کیا اس معاہد سے کی ذمہ داری میں شریک نہیں تھے ؟ اس پر کہا :۔Dont you MAKE A MISTAKE۔BALDWIN WAS A SINGULARLY Ignorant MAN • HE KNEW NOTHING About Foreign AFFAIRS OR Foreign Policy۔All HE WAS INTERESTED IN WAS WINNING THE Elections AT HOME-BUT I GRAnt You Sam HoARE Is Doing A Good JOB IN MADRID AND۔SPARE HIM”۔I CANNOT ترجمہ۔اس محول میں نہ رہنا۔بالڈون تو بالکل جاہل مطلق تھا وہ ماریجہ معاملات یا خارجہ پالیسی کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔اسکی غرض صرف ایک تھی مکی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے میں یہ مانتاہوں کہ سیموئل مور شیدر میں اپنے فرائض اس خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہا ہے کہ میں اسے وہاں سے تاریخ نہیں کر سکتا۔میں نے کہا وقت آنے پر وہ میڈر دو سے سیدھے دہلی جا سکتے ہیں۔وہ ہندوستان کے مسائل کو خوب سمجھتے ہیں اور اس بات کے محتاج نہیں کہ چھ مہینے انڈیا آفس میں بیٹھ کر ہندوستان کی سیاسی تاریخی اور مسائل حاضرہ کا مطالعہ کرتے ہیں فرمایا میں تمہاری ارے کو وقت دیتا ہوں اور تمہاری تویہ کو ذہن میں رکھوں گا۔وزیر اعظم چہ پل سے ملاقات کے بعد ایک دن سرحان انڈرسن کے ہاں آئندہ وائسرائے کے تقری کا ذ کر گیا۔لیڈی اینڈرسن نے مجھ سے کہا کیا نہیں اتفاق نہیں کہ جان ک انتخاب موزوں ہوگا ہ میں نے از راہ تواضع کردیا کہ قابلیت ار تی ہے کے لحاظ سے تو بہت مناسب ہو گا۔اس پر سرجان نے میری طرف دیکھا اورکہا لیکن تم تو سیموئل پور کے فقر کے من میں ہو۔می نے کہا میرا یہ منصب نہیں کہ میں وائسرائے کے انتخاب میں دخل دور واشنگٹن میں کارڈ ہیلی فیکس نے مجھ سے سر مونیل مور کے متعلق ذکر کیاتھا۔مجھے اکی رائے سے اتفاق تھا کہ سرسیموئل و نے بطور روز مه نگول میز کافران در را ایمنی مشترک بیٹی میں جس محنت اور تقدیر سے کام کیا تھا اس کے مدنظر ان کا انتخاب بطور وائر لیئے ہند موزوں ہوگا۔لارڈ سیلی فیکس نے خواہش کی تھی کہ میں اس رائے کا اظہار وزیراعظم سے کر دوں وہ میںنے کر دیا۔اس پر سرجان خاموش ہو گئے۔مجھے حیرت ہوئی کہ تو صحاب اتنے بڑے مناصب پر فائز ہوتے ہیں وہ بھی ذاتی معالے میں چھوٹی پھوٹی باتوں کو اہمیت دینے لگ جاتے ہیں۔یہ توکوئی تعجب کی بات نہ تھی کہ سر جان کو اس لیئے کے منصب پر تقری کی خواہش ہو۔وہ بنگال کے گورنر رہ چکے تھے، ہوم سروس میں ان کا ریکار بہت اچھا تھا، مسلم قابلیت کے مالک تھے، اور حکومت میں وزارت کے عہدے پر فائز تھے۔وزیر اعظم کے ساتھ دوستانہ مراسم تھے