تحدیث نعمت — Page 30
i سے متواتر تین ہفتے سفر کے بعد آج ہی یہاں پہنچے ہو کچھ اس کا بھی اثر ہے۔اب تم تین چار سال میاں یہ ہو گے اس آب ہوا میں مناسب خوراک سے کمزوری رفع ہو جائے گی۔لیکن تمہاری دائیں آنکھ کی بینائی اس قدر کمزور ہے کہ کوئی میڈیکل بورڈ تمہیں پاس نہیں کرے گا۔اس لئے ہمارا مشورہ یہ ہے کہ تم کوئی ایسی لائن اختیار نہ کرو جس میں کامیابی کیلئے میڈیکل بورڈ کے معائنہ میں پاس ہونا لازمی ہو۔میں نے بورڈ کا شکریہ ادا کیا اور واپس مکان پر آگیا۔والد صاحب کی خدمت میں خط لکھا۔اور بورڈ کی رائے ان کی خدمت میں ارسال کر دی۔ان کا نہایت مشفقانہ جواب آیا یتم بالکل پریشان نہ ہونا۔یونیورسٹی میں قانون کی ڈگری کے لئے اور انہ آف کورٹ میں سے کسی میں بیرسٹری کیلئے داخلہ لے لو یہی کافی ہے۔تعلیم کے لئے انگلستان میں قیام قاضی ظهور مین جناب مشورہ اور امداد اور قانون کی تعلیم کیلئے کنگز کالج میں داخلہ۔کچھ دنوں کے بعد مجھے قاضی ظہور سین صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوا۔جو گورنمنٹ کالج لاہور میں مجھ سے دو سال سینٹر تھے اور اس وقت لندن میں انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ان کے مکان پر مسلمان طلباء کا آنا جانا رہتا تھا۔ظہور حسین صاحب نے مجھے مشورہ دیا کہ بجائے کی جانے کے میں لندن یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کر دیں۔قاضی صاحب نے میرے ساتھ جا کر مجھے لنگر کالے میں داخل کرادیا۔ایک نوار د کو جن ہدایات اور مشوروں کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ بھی کمال شفقت سے دیئے اور بعض چھوٹے چھوٹے کام جن کے سرانجام دینے کیلئے لوکل واقفیت کی ضرورت ہوتی ہے اپنے قصے لے لئے۔مثلاً میرے نام کے ملاقاتی کارڈ چھپوانے کا خود ہی انتظام کیا اور ان پر میرے نام کے ساتھ نہایت ہی محبوب اور مبارک نام "محمد" کا اضافہ کر دیا جو میرے لئے بڑی بہ کنت کا موجب ہے۔قاضی صاحب تعلیم کی تکمیل کے بعد آپ آئے تو ریلوے کے انجنیئرنگ کے محکمے سے وابستہ ہو گئے باد میں جب میں حکومت ہند میں تجارت اور ریلوے کا وز یہ مو اتو اس زمانے میں قاضی صاحب آسام بنگال ریلوے کے چیف انجنیر مقرر ہوئے۔قاضی صاب کے صاحبزادے قاضی افضل حسین صاحب پاکستان انٹر نیشنل ایر دیز میں ایک بڑے عہدے پر ہیں اور میرے ساتھ ویسی ہی محبت سے پیش آتے ہیں جیسی ان کے والد بزرگوار میری طالب علمی کے زمانے میں میرے ساتھ پیش آتے رہے ہیں۔فجزاهم الله خیرانی الدنیا والآخرہ۔میں نے سٹامس آرنلڈ کو اطلاع