تحدیث نعمت — Page 442
سمسم مکھیوں کا بھی نام ونشن نہ تھا۔میں نے خیال کیا کہ شاید استقدیر صفائی کینٹین کی خصوصیت ہو۔لیکن مجھے معلوم ہوا کہ موجودہ چین کے شہروں کے مقابلہ میں صفائی کے لحاظ سے کینٹین کو کوئی امتیاز حاصل نہیں۔ملکہ اس کو شمارہ چین کے نسبتہ کثیف شہروں میں ہوتا ہے بستر پچھتر کروڑران نوں کی ایسی کیف آبادی میں حسین کا نمونہ میں نے ٹینگ کنگ میں دیکھا تھا ایک ایسا انقلاب جس کا تجربہ مجھے کیٹین میں ہوا میرے لئے حیران کن تھا۔اور صرف صفائی ہی میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے مں کم سے کم جہاں تک مادری اور اخلاقی اقدار کا تعلق ہے چین نے بڑی تیزی سے حیرت انگیر ترقی کی ہے۔چین کی مسلم آبادی | ستمبر کے مہینے میں جھنگ کنگ میں لیجسلیٹوں ان کا اجلاس ہوا اور اس اجلاس میں شمولیت کے لئے چین کے شمالی مغربی صولوں کے اور سنکیانگ کے نمائندے بھی تشریف لائے۔چین کے شمالی مغربی صوبوں میں سے بعض میں مسلمانوں کی کثرت ہے سنکیانگ میں تو نسلی لحاظ سے بھی کثرت ترکی نسل کی ہے۔ان میں سے تین چارہ نمائندوں کے ساتھ میری طاقات ہوئی۔تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے یہ اصحاب فارسی جانتے تھے اور میں ان کے ساتھ کچھ گفتگو کر لیتا تھا۔سنکیانگ کے نمائندے بھی کچھ فارسی جانتے تھے گوانکی زبان نہ کی تھی۔یہ ملاقاتیں میرے لئے بڑی دلچسپی کا موجب ہوئیں۔مجھے علم ہوا کہ چین میں قریباً چار پانچ کروڑ مسلمان ہیں توزیادہ تیم شمال مغربی علاقوں میں آباد ہیں۔ان دنوں ان علاقوں میں بینکنگ کا کاروبار زیادہ تر مسمانوں کے ہاتھوں میں تھا۔تین صوبوں کے گورنہ مسلمان تھے۔دینی اقدار کے لحاظ سے وسط ایشیاء سے قریب ترین علاقوں میں اسلامی رنگ زیادہ کا امام الامام کی نیت سے کیا تھی نہیں کہ بی بی مریم کا ان کا کیا ہوا کھانا بالکل نہیں کھائے تھے۔میں جب تار میں ٹانگ کانگ سے نہیں گیا اور اسے جیتی ہی میں سوار ہوا تو روپے کے کانے کا وقت تھا کھانے کی گاڑی کے تم نے میری نشست پر ہی مجھ سے دریافت کیا کھانا کھاؤ گے ؟ میرے اثباتی جواب پر پوچھا۔سلم طعام ؟ میں نے پھر اثبات میں جواب دیا۔مجھے کھانے کیلئے بلاوا دو سے مسافروں کی نیت نصف گھنٹہ بعد آیا اس سے بھی میں نے اندازہ کیاکہ میرے لئے علیحدہ کھانا تیار کیا گیا تھا۔ان دونوں چینی مسلمانوں کی دینی تربیت ان کے علماء کے سپر دیکھی جن میں سے ایک خاصی تعداد الازہر کی سند یافتہ تھی۔ان علماء کو آہنگ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ممکن ہے یہ لفظ اخوند کا ہی مرادن ہو۔چنگ کنگ سے واپسی | ستمبر کے آخرمیں میجر نذیراحمد صاحب چنڈو اور لان چاو تشریف لے گئے حکومت نے ان کے سفر کا انتظام کر دیا۔میں شروع اکتوبر میں دالپس دتی جانیوالا تھا۔میں نے ان سے کہا آپ پسند کریں تو میں حکومت ہند کو لکھ دوں کہ آپ میری واپسی کے بعد جنگ کنگ ٹھہریں گے۔انہوں نے کہا میں تو ہرگز ٹھہر نانہیں چاہتا اور تمہارے ساتھ ہی واپس جاؤں گا۔میں نے کہا میں فلاں تاریخ کو روانہ ہوں گا لہذا