تحدیث نعمت — Page 423
۲۳ گرم ئی تھی نا کہ اگر کسی سے پہلے دن سفر ن کر سکیں تو دوسرے دن سفر کیا جاسکے۔انکی اس دور اندیشی سے ہم پریشانی سے بچ گئے۔کیونکہ پہلے دن جبکم ماہ پہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ بادلوں کی وجہ سے جہاند اس ون پر روانہ نہیں کرے گا۔جنگی ضابطہ کی رو سے ان دنوں لازم تھا کہ پر ان کے دوران ہوائی جہانی سارا وقت زمین سے نظر آتا ہے اور آسانی سے شناخت کیا جاسکے۔دوسرے دن مطلع صاف تھا اور ہم دو بجے بعد دو پر پیرس پہنچ گئے۔دوسری صبح ہم جنیوا اسپنچے ہوٹل بوری دا میں قیام ہوا۔لندن اور پرس کے مقابلے پر معنیوا میں بہت چہل پہل معلوم ہوتی تھی اور جھیل کا منظر بہت دلکش تھا۔مہنہ بھر کے قریب اندھیرے میں گذارہ کر روشنی کی قدر بہت بڑھ گئی تھی۔ہمارے ہوٹل کے قریب پی چینی موٹی میں سر پر بیٹ ایمرسن سابق گورنہ پنجاب بھرے ہوئے تھے۔وہ ان دنوں لیگ آن بیشتر کے رنیومی کمتر تھے۔مجھے اور انور کو کھانے پر بلایا چھ پرانی یادیں تازہ ہوئیں جن سے کچھ تلخی بھی البتہ تھیں۔اس ہوٹل میں نیوزیلینڈ کے ہائی کمتر میم لندن مسٹر جاہ دین بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔جو اسمبلی کے اجلاس میں نیوزی لینڈ کی نمائندگی کیلئے تشریف لائے تھے۔اجلاس میں جانتے اور وہاں سے آتے ہم اکثر نہیں ساتھ لے لیتے تھے۔ان کا میرا بہت دوستانہ ہو گیا۔بہت بھلے آدمی تھے۔نیوزیلینڈ میں جا کہ آباد ہونے سے پہلے وہ لندن میں پولیس کانسٹیبل تھے۔نیوزیلینڈ میں پارلیمنٹ کے نمبر ہوئے۔میں بعد میں انہیں لندن میں ان کے دفتر جاکر ملا کرتا تھا۔اس وقت ان کا دفتر سٹرینڈ میں تھا۔جب میں پہلی بار ان سے جاکر ملا تو مجھے کھڑکی کے پاس لے گئے اورنیچے بازار کی طرف اشارہ کر کے کہا دیکھو جہاں وہ کانسٹیبل ڈیوٹی پر کھڑا ہے وہاں ایک وقت میں بھی ڈیوٹی پر میں کھڑا ہوا کرتا تھا۔اسمبلی کے اجلاس میں مسٹر آرا سے ٹیٹر سے ملاقات ہوئی جو ان دنوں میر طانیہ کے نائب وزیر خارجہ تھے اور برطانوی وفد کی قیادت کر رہے تھے۔اب وہ لارڈ قبلہ ہیں۔میں انہیں گول بیڑا فرانسوں کے وقت سے جانتا تھا۔ان کے والد سر انٹیگو ٹیلہ انڈین سول سروس میں تھے اور پنجاب میں تعنیات رہے۔جب وہ ضلع ایک کے ڈیٹی کمشنر تھے ان دنوں مسٹر آر اے بلد اٹک کے قلعہ میں پیدا ہوئے۔سرمانٹیگونی کونسل کے پہلے صدر ہوئے۔بعد میں وہ صوبجات متوسط اور پھر یہ ماکے گور نہ ہوئے۔لیگ کی کونل نے فنلینڈ کے احتجاج پر غور کرنے کے بعد سفارش کی کہ روس کو لیگ کی رکنیت سے خارج کیا جائے۔معاملہ اسمبلی میں آیا۔اسمبلی میں اگر تقریریں کونسل کی تجوید کی تائی میں ہی جو میں سکین سب دبے دبے الفاظ میں۔اسکی وسعد روس کا احترام یا روس کی طرف سے کسی کا روائی کا اندیشہ نہیں تھا۔