تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 422 of 736

تحدیث نعمت — Page 422

کہ حالات نا گوار تو ہیں لیکن خطرہ الیسا شدید نہیں جیسے ان عزیزوں کا اندازہ ہے جو فاصلے پر ہیں لیکن بہر حال میرے فرائض منصبی کا یہی تقاضا ہے اور اخلاقی فرض بھی ہے کہ میں اپنی جگہ نہ چھوڑوں اسلئے آپ لارڈ کیٹر کو لکھ دیں کہ میں ان کی شفقت کا ممنون ہوں۔لیکن مناسب میں ہے کہ میں کلکتے میں ہی ٹھہروں۔ابھی میں وزراء کی کانفرنس کے سلسلے میں لندن ہی میں تھا کہ وائٹریٹ کا تار آیا کہ فنلینڈ کی استدعا E پر لیگ آف نیشنز کی اسمبلی کا اجلاس ہو نیوالا ہے یہاں سے تو کسی کو جنیوا پہنچنے کا موقعہ نہیں تم وہیں سے وند تیار کرکے ہندوستان کی نمائندگی کیلئے جنیوا چلے جاؤ۔انڈیا اس سے مشورہ بھی کر لو اور توند ضروری سمجھو ان سے طلب کر لو۔میں نے سرفنڈ لیٹر سٹورٹ سے مشورہ کیا۔انہوں نے فرمایا ہمارے دفتر میں مٹر ٹالنس لیگ آف نیشنز کا کام کرتے ہیں۔تفاصیل ان کے ساتھ لے کر لو۔دہی تمہارے ساتھ بطور سہندوستانی وفد کے سیکریڑی کے جینوا پلے جائیں گے۔فلینڈ نے روس کے خلاف جرمانہ کاردانی کہی کی شکایت کی ہے۔حالات واضح ہیں۔ہم سب کی ہمدردی فنلینڈ کے ساتھ ہے۔وہاں پہنچ کر دیکھ لیا کہ کس نوع کی کاروائی مناسب ہوگی اگر ضرورت سمجھو تو ہم سے مشورہ کر لیا۔وفد کے قائد توتم خود ہی ہوگئے اپنے سیکر یٹری کو جسے تم ساتھ لائے ہو وفد کا ممبر نبا لو۔! سٹرٹا مکنی بہت با تدبیر اور سکھی ہوئی طبعیت کے افسر نکلے۔سب تفاصیل ان کے ساتھ طے ہوگئیں وزراء کی کانفرنس کی کاروائی آخر نومبرتک ختم ہوگئی۔جنیوا جانے میں بھی چار پانچ دن باقی تھے۔میں نے کریل کر نیکی سے دریافت کیا کہ حکومت برطانیہ کی میزبانی کا فائدہ ہم کب تک اٹھا سکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا جنگ کا زمانہ ہے داسی سفر کے انتظامات فوری طور پر تو نہیں ہو سکیں گے۔آخہ چار پانچ دن تو در کار ہوں گئے ہیں جب تک تم حکومت کے مہمان ہی ہو گئے۔میں نے کہا میں تو یہاں سے لیگ آف نیشنز کے اجلاس کے لئے جنیوا جاؤں گا اور وہاں سے ہندوستان جاؤں گا۔جنیوا جانے میں ابھی کچھ وقفہ ہے۔میں چاہتا ہوں تین چار دن لندن سے باہر ہو آؤوں کیا یہ انتظام ہو سکتا ہے۔انہوں نے فرمایا بیشک ہوسکتا ہے۔کا ر لے جاؤ ہم پٹرول کے کوپن وغیرہ مہیا کر دیں گے۔واپسی پر جنیوا جانے تک دی انتظام قائم رہے گا جو اس وقت ہے۔تمہاری میزبانی تو نہایت آسان ہے تمنے توسم سے کسی قسم کا مطالبہ کیا ہی نہیں۔یہ ان کا حسن اخلاق تھا۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ پول کے متعلق کڑی پابندیاں ہیں۔لیگ آف نیشتر کی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت جنیوا کے سر کا یہ انتظام تھا کہ لندن سے ہوائی سہانہ پر پیرس اور وہاں سے ریل پر بجنیوا جائیں گے۔مسٹر ٹا مکسی نے لندن سے پر مس تک کے ریل کے ہوائی سفر اور پرسی سے جنیو انک کے ریل کے سفر کیلئے بکنگ کا نظام کر لیا ہوا تھا۔اور احتیاطاً دوسرے دن کے لئے بھی وہی بلنگ کرائی