تحدیث نعمت — Page 410
۴۱۰ اس کی ترقی کے امکانات پر مخالفانہ اللہ پڑا ہے۔صوبے کی حکومت نے تمام حالات کا جائزہ لیکر قرار دیا کر تین اسامیوں کے ہوتے ہوئے بھی اس افسر کے سپرنٹنڈنگ انجنیر کی اسی پر قائم ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔اسلئے وہ کسی معاوضے کا حقدار نہیں۔اس حکم کے خلاف استہ بند گور نے حکومت ہند میں اپیل کی بیبیاں بھی محکمہ متعلقہ نے صوبائی حکومت کے ساتھ اتفاق کیا۔مسل قانونی مشورے کیلئے وزارت قانون میں آئی۔ہم نے بھی اتفاق کیا اور قرار دیا کہ معاوضے کی ادائیگی کی ذمہ داری حکومت پر عاید نہیں ہوتی۔درخواست کنند و نے دن یہ ہند کی خدمت میں اپیل کی۔وزیہ مند نے لکھا میرے میران قانونی کی رائے میں معاوضے کا مطالبہ کیا ہے اسلئے معاوضہ ملنا چاہئیے۔واپسی پر مسل ہمارے پاس بھی برائے اطلاع آئی۔میں نے اس پر لکھا اطلاع ہوئی۔میری اب بھی بھی رائے ہے کہ ہمارہ کی رائے صحیح ہے اور وزیر بند کے مشیران قانون کی رائے غلط ہے۔لیکن وزیر بند کا فیصلہ ناطقی ہے کیوں نہ ہو پنجابی کی مثل ہے :۔رب نے دیتیاں گا جہاں نے دیتے کہ بنا کہ کھ۔دوسرے دن سر جارنا سنت ہے جو محکمہ قانون کے سیکر یٹری تھے دریافت کیا کہ تمہارے کل کے نوٹ میں تو پنجابی مثل درج تھی اس کا کیا مطلب ہے۔میں نے کہا آپ نے انگر نیزی مثل "MAKE HAY WHILE SUN SHINES توسنی ہوگی پنجابی مثل تو اسی مطلب کو ذرا نہ یادہ بلیغ الفاظ میں بیان کرتی ہے۔" پنڈت جواہر لال نہرو نے بنارس میں ایک تقریبہ کی جسے حکومت کے خلاف اشتعال انگیز سمجھا گیا ان کے خلاف فوجداری مقدمہ چلائے جانے کی تجونیہ ہوئی۔وزارت داخلہ کی طرف سے مشورے کے لئے مثل محکم قانون میں آئی۔محکمہ کے ڈپٹی سیکریٹری، سوئٹر اور سیکر یٹری تینوں نے اتفاق کیا کہ تقریبہ واضح طور پہ قانون کی نہ دیں آتی ہے اور مقدمہ چلائے جانے کی صورت میں سزا یا بی کا قیاس غالب ہے۔میں نے لکھا مجھے قانونی نقطہ نگاہ سے تو اتفاق ہے۔لیکن حکومت کا رکن ہونے کی حیثیت سے میرا مشورہ ہے کہ پنڈت صاحب کے خلاف عدالتی کاروائی نہیں ہونی چاہیے۔بیشک انکی تقریر کے بعض حصے صراحتہ قانون کی مدد سے تجاوز کرتے ہیں لیکن تقریر کا لب لباب یہ ہے کہ ہندوستان کی سیاسی آزادی میں تاخیر ایک نا قابل برداشت نا انصافی اور ظلم ہے۔اس موقف کے ساتھ ہر شخص کو اتفاق ہو یا نہ ہولیکن اس کے مقصد کے ساتھ ہر اہل وطن کو ہمدردی ہے۔پنڈت صاحب کے خلاف مقدمہ چلانے سے ملک میں ہر ایک کی ہمدردی ان کے ساتھ ہو جائے گی اور عبدالسی تقریر کرنے سے پنڈت صاحب کی سی عرض ہو کہ حکومت مقدمہ چلائے تاکہ پلک کی ہمدردی کانگریس تحریک کے ساتھ ہو جائے وزیر داخلہ نے یہ مشورہ قبول کر لیا اور مقدمہ نہ چلایا گیا۔سند یافتہ مجرموں کی طرف سے گورنر جنرل کی خدمت میں رحم کی درخواستیں وزارت داخلہ میں آتی تھیں راہ سرریکینیڈ میکسول۔i