تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 409 of 736

تحدیث نعمت — Page 409

ضاء میرے پاس آئی تومیں نے بلا تامل اس رائے کا اظہار کیا کہ ریاست کا موقف درست ہے ریاست کی ذمہ دالہی پر ہے کہ وہ بلا معاوضہ لئے رقبہ مطلوبہ مہیا کرے۔ریاست نے قبہ مطلوبہ مہیا کر دیا ہے۔ریاست کسی معاوضے کا مطالبہ نہیں کرتی۔لیکن رقیہ مطلوبہ میں میرے اشخاص کے حقوق ہیں اور وہ معاوضہ پانے کے حقدار بہنوئی معاہدے میں یہ درج نہیں کہ ایسی صورت میں ریاست تیرے اشخاص کے حقوق کو اپنے پاس سے معاوضہ ادا کر کے حاصل کر یگی اور وہ حقوق حکومت انگریزی کو منتقل کرے گی۔وائسرائے نے اس رائے کے ساتھ اتفاق کیا اور یہ پرانا تقیہ آخری حق وانصاف کے مطالق طے ہو گیا۔دریاست برودہ ایک ساحلی ریاست ہو سکی حیثیت سے اس تجارتی سامان پر جو ریاست کی کسی بندرگاہ پر اترتا بحری محصول مطلہ کرنے کی حقدار تھی۔بعض دفعہ اب بھی ہوتا کہ وہی تجارتی سامان بعد میں ریاست سے بر طانوی سند کے علاقے میں بھیجا جاتا ہیں پر حکومت ہند محصول کا مطالبہ کرتی اور اس طرح ایسے سامان پر دو حکومتوں کے محصول کی ادائیگی کی ذمہ داری عاید ہوتی۔یہ امر ریاست اور حکومت ہند کے درمیان عرصے سے زیر تنازعہ چلا آتا تھا۔آخر سر میز گرگ وزیر خزانہ کے زمانے میں اس نے کاریں یہ اک رات انار محصول حکمت ان کی شر کے مطابت رکھے اور ایسے سامان پہ تو ریاست کے محصول کی ادائیگی کے بعد برطانوی ہند میں داخل ہو۔ریاست حکومت ہند کو الانہ تشخیص شدہ رقم ادا کر دیا کرے۔اگر ایسے کسی امن کے متعلق تنازعہ پیدا ہو تو معاملہ ایک متفقہ نالے کے مطابق دونوں حکومتوں کے درمیان طے ہو جایا کرے۔سامان کو انا مجھ کو ریاست کی ، برطانوی شہد کی حمد پہ نہ درد کا جائےاور نہ ان کے ساتھ کسی قسم کا نعرض کیا جائے۔اس معاہدے کے مطابق مقرہ تاریخ سے ریاست میں عمل در آمد شروع ہو گیا لیکن برطانوی ہند کی سرحد یہ پہلی سی مشکلات قائم رہیں ریاست کی طرف سے شکایت ہوئی۔مرکزی اوالدہ مالیات کے رکن مسٹر لیڈ نے ایک عالمانہ تفصیلی نوٹ لکھ کر معانگ کو ملک کے قانون کی حیثیت حاصل نہیں۔اور جب تک معاہدے کی شرائط کو قانونی جامہ نہ پہنایا جائے ان کی تعمیل ماندہ می نہیں مسل محکمہ قانون میں مشورے کے لئے آئی قومیں نے لکھا کہ معاہدے کی شرائط کو تاریخ مقرہ سے قبل قانونی جامہ پہنانا ہمارا فرض تھا۔اگریم نے اس فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہے توسم مجاز نہیں کہ ان کو تاہی کا اس رنگ میں فائدہ اٹھائیں کہ فریق ثانی تو معاہدے کی عاید کردہ زمرد اریون کو ادا کرے اور تم ان کی ادائیگی سے گریز کریں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم معاہدے کی شرائط کو پورا کریں اور اپنے افسروں کے نام ہدایت جاری کریں کہ ان شرائط کے مطابق عمل کیا جائے۔چنانچہ الیاتی کیا گیا۔صوبجات متوسط کے ایک برطانوی ایگزیکٹو انجینیر نے صوبائی حکومت سے اس بناء پر معاوضے کا مطالبہ کیا کہ صوبے میں سپرنٹنڈنگ انجنیر کی تین اسامیوں میں سے ایک تخفیف کر دی گئی ہے۔جس سے