تحدیث نعمت — Page 407
۔انتظار کریں انشاء اللہ نتیجہ نیک ہو گا۔ایک ہفتہ بعد تک ہی ہر ملاقات میں انہیں قتلی دیتا رہتا کہ پریشانی کی کوئی وجہ نہیں۔دوسرے ہفتے وائسرائے کی ملاقات سے پھر سیدھے میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا مبارک این ہو وہی بات ہوئی جو آپ نے کبھی بھی دائ رائے نے زراعتی کونسل کے وائس چیر مین کے متعلق میری تجویز منظور کر لی ہے۔سر عبد الرحیم صاحب صدر اسمبلی مٹی شاہ سے میرے قلمدان میں تبدیلی ہوگئی۔میں نے سرائی کا سرکار سے قانون کے محکمے کا چارج لیا۔اور اسمبلی میں سنیٹر وزیر ہونے کی حیثیت سے اسمبلی کے پروگرام اور اسمبلی میں سر کاری کام کے انتظامی پہلو کی نگرانی بھی میرے سپرد ہوئی۔اسمبلی کے صدر سر عبدالرحیم تھے جو ایک نہایت قابل تجربہ کامه بارعب اور باوقار شخصیت تھے۔میں انہیں اپنا بزرگ سمجھتا تھا اور وہ بھی میرے ساتھ بہت شفقت کا سلوک فرماتے تھے۔فجزاه الله - نائب صدر مسٹر تھے جو کانگریس پارٹی کے رکن تھے۔کانگریس نے اپنی کسی مصلحت کی بناء پر انہیں اس منصب کیلئے چنا ہو گا۔ورنہ کانگریس پارٹی کے اراکین میں ان سے کہیں زیادہ قابل، تجربہ کار اور صاحب دانش اصحاب موجود تھے۔ایک مرتبہ شملے کے اجلاس میں ایسا اتفاق ہوا کہ نائب صدر کی صدارت کے دوران میں کسی مسئلے پر رائے شماری ہوئی۔نائب صدر نے کرنسی صدارت سے رائے شماری طلب کی اور پھر کرسی صدارت کو خالی چھوڑ کر دوڑے دوڑے اپنی پارٹی کے اراکین کے پچھے پچھے رائے شماری کی لابی میں سے ہو کر دوڑتے ہوئے واپس آئے اور پھر کرسی صدارت پر متمکن ہوکر رائے شماری کے نتیجے کا اعلان کیا۔دو سیم اور بھاری بھر کم تھے۔ان کا ایوان میں سے یوں سراسیمگی میں بھاگتے ہوئے رائے شماری کی لابی می جانا اور پھر اسی کیفیت میں ایوان میں سے بھاگتے ہوئے کہ سٹی صدارت پر واپس آنا ایک مضحکہ خیز منظر تھا جس سے ایوان میں ہنسی کی لہر دوڑ گئی۔میں نے احتجاج تھی کیا کہ صدارت کے فرائض سر انجام دیتے وقت تو صاحب صدارت کی ذمہ داریوں کے حامل ہوں وہ رائے شماری میں حصہ نہیں لے سکتے۔لیکن وہ اپنی چالا کی پر اسقدر سرورا اور فرما ہو رہے تھے کہ انہوں نے میرے احتجاج کو ایسی مثال دیا اسمبلی کے اراکین صاحب صدر کا پورا احترام کرتے تھے۔اور ان کے ساتھ پورا لتعاون کرتے تھے۔صاحب صدر استقدر دانش اور وقار کے ساتھ اپنے فرائض کو سرانجام دیتے تھے کہ اسی کے اجلاسوں میں کبھی کوئی نا گوار صورت پیدا نہ ہوئی۔" میرے زمانے میں وزارت قانون کے سیکہ بیڑی سر جارج سپنس تھے ، ڈپٹی سیکر یٹری مسٹر شیر یکیس لال تھے، اور سولیسٹر ایک بنگالی قانون دان تھے تینوں نہایت قابل افسر تھے۔سوئسٹر کی ملازمت کی میعاد میرے وقت میں پوری ہوگئی لیکن مجھے ان کے صائب الرائے ہونے کی وجہ سے انکی بہت قدر تھی اسلئے میں نے ان کے دربارہ تقریر کی سفارش