تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 405 of 736

تحدیث نعمت — Page 405

۰۵م کہا۔یہ کوئی ایسی روک نہیں۔ان کا مشاورتی کونسل کا تجربہ ان کی موزونیت میں اضافہ کرتا ہے کی نہیں کرتا یہ جگہ ابھی کچھ ماہ میں خالی ہو گی وہ کچھ نا ک بھی مشاورتی کونسل مں کام کر سکتے ہیں۔سر گلٹ نے کہا میں یہ بات والا ہے کے گوش گذار کر دوں گا۔لیکن تم خود بھی ان سے بات کرنا۔میں نے تو کچھ سر گرٹ سے کہا تھا وائسرائے سے بھی کہ دیا " صرف ان کی رجعت پسندی کی شہرت کا ذکر چھوڑ دیا۔ہفتہ بر بعد بیا ٹویٹ سکرٹری نے مجھے بتایا کہ سران این سرکار کی جگہ سر راما سوامی مالیار کی تقرری کا فیصلہ ہو گیا ہے اور وہ محکمہ تجارت کے وزیہ ہوں گے۔کچھ دنوں بعد عید علیم غزنوی ولی تشریف لائے تو مجھ سے ذکر کیا کہ سر گر جاشنکر با حیائی کہتے ہیں کہ وائسرائے نے ان سے کہا تھا کہ سر این این سہ کار کے جانے پہ انکو کون کارین یا جائے گا اور تجارت کا محکمہ ان کے سپرد ہو گا۔اس تقریری کی وزیر منانے بھی منظوری دیدی تھی اور کا غذات منظوری کیلئے ملک معظم کو بھیج دیئے گئے تھے۔اب انہیں بلایا گیا ہے کہ سران این سرکارہ کی جگہ سر راما سوامی مدلیانہ کا لفقر ہوا ہے اور وہ وزیر تجارت ہوں گے۔یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آخری مرحلے پر یہ تبدیلی کیسے ہوگئی بسر عبد الحلیم نے مجھ سے دریافت کیا تم نے کچھ اس کی بابت سناہے میں نے کہا سرگریا تم نے میں نے شکر خواہ مخواہ پریشان ہو رہے ہیں۔ان کا تفریہ آئندہ سال سمر جگدیش پرشاد کی جگہ ضرور ہو گا۔دیر آید درست آیات کتور سر جگدیش پرشاد صاحب کے ساتھ میرے تعلقات بہت خوشگوار تھے۔اب سر راما سوامی کے آنے سے ہم تینوں یک جہتی کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہو گئے۔اپریل کشاء میں جب سے جگدیش پرشاد کی مکہ سرگر جا شنکر با جانی کا تفرز مل میں آیات و ال ایے کی کونسل کے تینوں ہندوستانی اراکین کی یک جہتی میں کوئی فرق نہ آیات فالحمد للہ۔شام میں جب اسمبلی کا اجلاس دلی میں ہورہا تھا تو ایک دن سر جگدیش پرشاد تو کونسل آن سٹیٹ کے رکن تھے اسمبلی کے اجلاس میں تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا اگر تم چند منٹ کے لئے فارغ ہو تو ذرا اپنے کرے میں چلو میں نے ایک ضروری بات کہنا ہے۔میں ان کے ساتھ ہو لیا۔وہ بہت پریشان ملکہ مضطرب نظر آتے تھے میرا کمره قریب ہی تھا۔میٹھتے ہی فرمایا۔میں ابھی وائسرائے سے ملکہ آیا ہوں ایک سخت مشکل پیش آگئی ہے میرے محکم میں دو سنیر منصب خالی ہونیوالے ہیں۔ایک ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آئی ایم ایس اور دوسری وائس چیر مین اپریل کونسل آن ایگری کلچرل ریسر ہے۔میں نے ان دونوں کے لئے ہندوستانی افسروں کے نام پیش کئے ہیں وائسرائے دونوں پہر پور میں افسروں کے تقریر پر مصر ہیں۔پچھلے ہفتے جب میں واٹر یٹ سے ملنے گیا تھا تو یہ ذکر بھی آیا تھا۔میں نے وائسرائے سے کہا ان دونوی اسامیوں میں سے ایک پر تو آپ کو ضرور کی ہندوستانی کے تقریر پر رضامند ہونا چاہیے در یہ میرے لئے سخت مشکل پیدا ہو جائے گی اورمیں کونسل میں نہ مر سکوں گا میں یہ کہ کر چلا آیا۔آنے پر میری ملاقات کا دن تھا۔وائٹ ہے نے اس معاملے کا کوئی ذکر نہ کیا نہیں میں نے اس معاملے کو چھڑا۔لیکن ایک اور معاملے کے سلسلے میں وائسرے نے کہاہاں مجھے اس اس ہے کہ یہ معاملہ حل طے ہونا چاہیے کیونکہ آپ نے اپنا گر میوں کا پر وگرام بھی طے۔۔: